کتاب البریہ — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۴ کیا ہے۔ ان ہی کے کہنے سے بیان کیا تھا کہ امرتسر مسجد خیر الدین میں مظہر سویا رہا تھا۔ یہ بات بھی بٹالہ میں مجھے سکھلائی گئی تھی۔ مارے ڈر کے پہلے میرا بیان جھوٹا لکھواتے رہے ہیں۔ جب تھانہ دار بلانے گیا تھا وہ اندر تھا باہر وارث دین نے مجھے کہا کہ خبر دار پہلا بیان مت بدلنا تم کو ڈاکٹر صاحب نے وعدہ معافی دیا ہوا ہے۔ دو سپاہی پولیس کے سکھ تھے۔ انہوں نے بھی مجھے کہا تھا که خبر دار اظہار مت بدلنا۔ ایک مدرس نہال چند نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔ آج صبح عبد الغنی عیسائی ۲۲۹ میرے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ شیخ وارث دین اور یوسف کہتے ہیں کہ تم کو ڈاکٹر صاحب سے معافی دلوا دیں گے اور تم بچ رہو گے اگر پہلا اظہار دو گے۔ کپتان صاحب کو میں نے اس امر کی اطلاع دے دی تھی۔ صاحب بہادر غسل کر رہے تھے خانساماں خاکروب وغیرہ سب احاطہ والوں کو خبر ہے کہ انہوں نے اس کو دیکھا تھا۔ میں نے کوئی کمرہ مرزا صاحب کا نہیں دیکھا ہوا اور نہ غسل خانہ کا کوئی علم ہے صرف ان لوگوں کے کہنے سے میں نے ایک کمرہ کا جو مسجد کے اوپر لے حصہ سے ملا ہوا ہے نام لے دیا تھا۔ ڈر کے مارے میں سب بیان کرتا رہا تھا۔ نورالدین عیسائی نے مجھے کہا تھا کہ تمہارا گزارہ میرے پاس نہیں ہو سکے گا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس جاؤ۔ اس لئے میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تھا ورنہ پہلے کوئی واقفیت ڈاکٹر صاحب سے نہ تھی۔ اقبال کا مطلب مجھے عبدالرحیم نے بتلایا تھا اور میں نے لکھ دیا تھا۔ لفظ بھی مجھے اس نے بتلائے تھے۔ پہلے جو البرھان ۔ یعنی جو شخص نیزہ سے زخمی کیا جائے اس کا اچھا ہو نا امید کی جاتی ہے لیکن جو شخص ۲۲۹ برہان سے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے اس کا اچھا ہونا امید نہیں کی جاتی۔ ایسا ہی میں نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر ثابت کر دیا کہ مسیح کا رفع جسمانی بالکل جھوٹ ہے۔ عیسائی تو اریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدت تک عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور ان کا رفع روحانی ہوا ہے۔ پھر بعد میں جب عیسائی لوگ یہودیوں کے مقابل پر رفع روحانی کا کوئی ثبوت نہ دے سکے کیونکہ روح نظر نہیں آتی تو یہ بات بنائی گئی کہ یسوع کو آسمان کی طرف جاتے فلاں شخص نے دیکھا تھا۔ اور