کتاب البریہ — Page 257
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۷ نقل بیان عبدالحمید بصیغه فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ (۲۲۲) مرجوعه فیصلہ نمبر مقدمہ نمبر بست ور اگست ۹۷ء متدائره از محکمه مہر عدالت دستخط حاکم 21/8/97 سر کار بذریعہ مسٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۷- اتعزیرات ہند یہ عبارت انگریزی چٹھی سے ترجمہ کی گئی ہے۔ اس بیان کی بنا پر جو عبدالحمید نے ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کے آگے ] بیان کیا ہے عبدالحمید کو بطور ایک سرکاری گواہ کے پھر شہادت کے لئے بلایا گیا اور اس کا بیان لیا گیا ] بیان عبد الحمید گواه با قرار صالح ۲۰ راگست ۹۷ بسوال عدالت میں نے کپتان صاحب پولیس کے رو بروئے بٹالہ میں ایک بیان کیا تھا۔ ایک تھانہ دار مجھ کو صاحب کے پاس لایا تھا۔ نام نہیں جانتا۔ اس وقت میں انار کلی ( بٹالہ ) میں تھا۔ ہم تین آدمی گاڑی میں تھے۔ ایک میں ایک تھانہ دار اور ایک سائیں۔ اس وقت میں وارث دین عیسائی بھگت پریم داس اور دو پولیس سپاہیوں کی حفاظت میں تھا۔ تھانہ دار سیدھا صاحب کے پاس مجھے لے گیا تھا۔ میں سب سے پہلے امرتسر ہال دروازہ میں نور الدین عیسائی کے پاس بات تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے ﴿۲۲۲ کے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا تفرقہ پیدا ہو گیا تھا اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے۔ اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہنچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔ اس تفرقہ کے وقت میں امت محمدیہ کو ایک حکم کی ضرورت تھی سوخدا نے مجھے حکم کر کے بھیجا ہے۔ اور یہ ایک عجیب اتفاق ہو گیا ہے جس کی طرف نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت موسیٰ سے تیرہ سو برس