کتاب البریہ — Page 258
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۸ (۲۲۳) گیا تھا۔ قادیاں سے آکر دو روز چھاپہ خانہ غلام مصطفی میں مظہر رہا تھا۔ ملازمت چھا پہ خانہ کے میں واسطے وہاں ٹھہرا تھا مگر وہاں کام نہ تھا۔ پھر میں امرتسر نور دین کے پاس گیا۔ نور دین نے پادری گرے صاحب کے نام مجھے چٹھی دی تھی۔ نور دین کے پاس بطور متلاشی عیسائیت گیا تھا۔ میں قطب الدین کے پاس ہرگز نہیں گیا تھا۔ میرا پہلا بیان کہ اس کے پاس گیا تھا سچ نہیں ہے۔ اس سے مظہر واقف تک بھی نہیں ہے۔ پادری گرے صاحب سے میں نے عرض کی تھی کہ مجھے عیسائی کرو۔ انہوں نے مجھے نور دین کے پاس واپس بھیج دیا اور کہا کہ اپنا خرچ کھاؤ تو عیسائیت سکھلائیں گے۔ میں نے یہ شرط منظور کی اور نور دین کے پاس واپس گیا۔ اس نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر کلارک صاحب کے پاس جاؤ وہ روٹی بھی دیں گے اور عیسائیت بھی سکھلائیں گے۔ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ ہندو سے مسلمان ہوا ہوں۔ یہ بھی بات نور دین سے بھی کہی تھی اور میں نے کہا کہ قادیاں سے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اچھا ہم دریافت کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ جب بپتسمہ ہو جائے تب دریافت کرنا۔ تب ڈاکٹر صاحب نے مجھے ہسپتال میں بھیج دیا وہاں عبدالرحیم عیسائی تھا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا میں نے اس سے بھی کہا کہ قادیاں سے آیا ہوں۔ دوسرے تیسرے روز وہ مجھے ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی پر لے گیا۔ مجھے ڈاکٹر صاحب نے بلایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مولوی عبدالرحیم کہتا ہے کہ تو خون کرنے ۲۲۳ نيه بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح یہ عاجز بھی چودھویں صدی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی لحاظ سے بڑے بڑے اہل کشف اسی بات کی طرف گئے کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی میں مبعوث ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام غلام احمد قادیانی رکھ کر اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس نام میں تیرہ سو کا عدد پورا کیا گیا ہے۔ غرض قرآن اور احادیث سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ آنے والا مسیح چودھویں صدی میں ظہور کرے گا اور وہ تفرقہ مذاہب اسلام اور غلبہ با ہمی عناد کے وقت میں آئے گا۔ سہو کتابت ہے۔ درست یہی ہے۔ (ناشر)