کتاب البریہ — Page 246
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۶ اُس کا علاج کیا تھا۔ دوبارہ جب وہ قادیاں آیا میں اسی جگہ تھا۔ دوبارہ آنے پر نکالا گیا تھا۔ شاید برہان الدین اس وقت اس جگہ نہ تھا یہ غالب امید ہے۔ محمد یوسف کے نکالے جانے کی بابت اب میں نے لفظ سنا ہے کہ وہ نکالا گیا تھا۔ دراصل وہ خود چلا گیا تھا۔ حرف F صفحہ ۴۴ میں جو عبارت درج ہے وہ راستی اور جھوٹ کی بابت ہے کہ کوئی شخص جو راستی پر نہ ہووے ۲۱۲) اس کو خدا ضائع کرے گا خواہ کوئی ہووے۔ اس میں مرزا صاحب بھی شامل ہیں یہ عبارت پیشگوئی نہیں ہے۔ کوئی شخص ہو شریر اور جھوٹے کا انجام اچھا نہیں ہے ۔ عبارت کے آخر میں لفظ جھوٹ کا درج ہے جھوٹے کا نہیں ہے۔ محمد سعید کو جو عیسائی ہو گیا ہے، اور بہت سی کامیابیوں کی وجہ سے آخر اس روی اعتقاد تک پہنچ گئے ہیں کہ خدا کی قدرت اور اُس پر ایمان رکھنا کچھ چیز نہیں ہے۔ اور اس گروہ کے تابع اکثر یورپ کے خواص عیسائی ہیں اور وہ دن رات ان تلاشوں میں لگے ہوئے ہیں کہ ہم خود ہی کسی طرح پر اس راز کے مالک ہو جائیں کہ جب چاہیں بارش برسا دیں اور جب چاہیں کسی کے گھر میں لڑکا یا لڑ کی پیدا کر دیں اور جب چاہیں کسی کو عقیمہ بنادیں۔ پس کچھ شک نہیں کہ یہ طریق دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعوی ہے۔ غرض دجال کی نبوت اور الوہیت کے دعوے کے یہ ایک ایسے معنے ہیں کہ کوئی دانشمند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ اور بلا شبہ پادریوں نے نبوت کی امانت میں جو الہام اور وحی الہی ہے ایسی بے جا دست اندازی کی ہے کہ ایک مدعی کے طور پر منصب نبوت میں ہاتھ ڈالا ہے۔ اور ہر ایک ترجمہ جو انجیل کے نام سے یہ لوگ شائع کرتے ہیں وہ گویا ایک نئی انجیل ہوتی ہے جو اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں ۔ اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا تو جس قدر ترجمے شائع کئے گئے ہیں ساتھ ان کے اصل کو بھی شائع کرتے جیسا کہ قرآن شریف کے شائع کرنے میں مسلمانوں کا طریق ہے۔ مگر ان لوگوں نے اصل کو چھپایا اور ان ترجموں کو ۲۱۲