کتاب البریہ — Page 247
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۷ جانتا ہوں۔ اس کو مرزا صاحب نے قادیاں سے نکال دیا تھا۔ یوسف خان اور محمد سعید اکٹھے یکجا رہتے تھے۔ دونوں قادیاں سے اکٹھے نہیں گئے علیحدہ علیحدہ گئے تھے ۔ اندر مکان غسل خانہ کا حال مجھے معلوم نہیں کہ کہاں ہے۔ مسجد کا عام غسل خانہ ہے۔ (بسوال پیروکار ) مرزا صاحب کا کوئی حجرہ مسجد میں نہیں ہے۔ (بسوال عدالت ) عبدالحمید کی بیعت نہیں ہوئی تھی۔ بیعت کی شرائط اس کو کوئی میں نے نہیں پڑھائی تھیں ۔ (حرف K) نورالدین سنایا گیا درست ہے نورالدین دستخط حاکم ۔ نقل بیان گواه استغاثه بصیغه فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ۲۱۳ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ ا ضابطہ فوجداری ۱۳ مراگست ۰۹۷ بیان شیخ رحمت الله با قرار صالح ہر عدالت دستخط حاکم کا 15/8/97 ولد شیخ عبدالکریم ذات شیخ ساکن گجرات حال لاہور عمر لفظه سال بیان کیا کہ میں تجارت کا کام کرتا ہوں۔ مرزا صاحب کا مرید ہوں قریب چھ سال سے۔ تعداد مریدوں کی مجھے معلوم نہیں۔ عبدالحمید کو غالباً ماہ مئی میں بمقام لاہور دیکھا تھا میری دوکان پر آیا تھا۔ میرے پاس گجرات شائع کیا جو خودان کے ہاتھوں کے کرتب ہیں۔ پس بلاشبہ ایک طور سے یہ دعویٰ نبوت ہے کہ کسی اپنی کلام کو پیش کر کے پھر اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا۔ ایسا ہی دعوی الوہیت ان کے فلاسفروں کی ان حرکات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ۲۱۳ راز آفرینش الہی میں ایسے طور سے ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں جس سے تمام الوہیت کے کاموں پر قبضہ کر لیں اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب انسان خدا تعالی کے نظام بری اور بحری اور ارضی اور سماوی میں دخل دینا چاہے اور طبعی تحقیقاتوں میں پڑ کر اور ہر ایک شئے کی گنہ تک پہنچ کر نظام عالم کے سلسلہ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہے تو جس قدر اُس کو اس فلسفیانہ تحقیقات اور تفتیش اور کھوج لگانے اور جانچ اور پڑتال میں کامیابیاں ہوتی ہیں اور