کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 630

کتاب البریہ — Page 245

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۴۵ میں اس سے واقف ہوا تھا۔ جہاں عام لوگ ملاقاتی یا فقیر وغیرہ رہتے ہیں وہاں وہ رہتا تھا۔ مرزا صاحب کے گھر سے سو گز دور جگہ ہے۔ مرزا صاحب وہاں نہیں آیا کرتے۔ چارسال سے برابر مرزا صاحب کے پاس رہتا ہوں۔ وہ خلوت میں رہتے ہیں۔ صرف پانچ وقت نماز کے واسطے باہر نکلتے ہیں اور کبھی کبھی ہوا خوری کے واسطے باہر جاتے ہیں ۔ صبح ۔ ظہر ۔ عصر ۔ مغرب اور عشا (۲۱) کے وقت باہر آتے ہیں اس وقت عام مجمع ہوتا ہے۔ ہر ایک آدمی وہاں موجود ہوتا ہے۔ کوئی شخص اندر مکان مرزا صاحب کے نہیں جاتا۔ میں خود کبھی نہیں گیا۔ عام طور پر مرزا صاحب نے حکم دیا تھا کہ جو اجنبی لوگ ہیں سوائے مخلصوں کے باقی لوگوں کو نکال دیا جائے ۔ جب برہان الدین نے کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے میں نے مرزا صاحب سے اس کی بابت ذکر نہیں کیا تھا۔ بلکہ برہان الدین سے کہا تھا کہ بُرے اچھے ہو جاتے ہیں آپ کیوں ایسی بدظنی اس پر رکھتے ہیں۔اس نے کہا تھا میں زیادہ تجربہ اس کی بابت رکھتا ہوں۔ عبدالحمید میرے درس میں کبھی نہیں بیٹھا اور مرزا صاحب سے تو ملا ہی نہیں۔ اس کو سوزاک کی بیماری ہے۔ میں نے بلا شبہ یہ ان کی اپنی طبع زاد انجیلیں ہیں جن کی صحت کا وہ کچھ بھی ثبوت نہیں دے سکتے ۔ پس جس گستاخی اور دلیری سے وہ ان بے اصل تراجم کو شائع کر رہے ہیں یہی فعل ان کا دوسرے لفظوں میں گویا نبوت کا دعوی ہے۔ کیونکہ انہوں نے جعل سازی سے نبوت کے منصب کو اپنے ہاتھ میں ۲۱ کے لے لیا ہے۔ جو چاہتے ہیں ترجمہ کے بہانہ سے لکھ دیتے ہیں اور پھر اس کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پس یہ طریق ان کا نبوت کے دعوے سے مشابہ ہے اور اس دام میں گرفتار اکثر عوام عیسائی ہیں۔ اور یہ دجل پادریوں کا منصب ہے۔ اور دجال کی دوسری جزو جن کے افعال خدائی کے دعوے سے مشابہ ہیں وہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یورپ کے فلاسفروں اور کلوں کے ایجاد کرنے والوں کا گروہ ہے۔ جنہوں نے اسباب اور علل کے پیدا کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے