کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 630

کتاب البریہ — Page 237

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۷ كتاب البرية رو بروئے دریافت کیا کہ تم نے جو بیان کیا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کہ منہ چھوٹا اور ۲۰۳ بڑی بات ہے۔ صاحب نے معافی دی اور اس نے سچ سچ بتلا دیا کہ ڈاکٹر صاحب کو مارنے کے واسطے آیا ہوں۔ جب میں امرتسر میں قادیاں سے واپس آ کر پہنچا تھا اس سے دوسرے یا تیسرے روز امر تسر سے بیاس ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ گیا تھا۔ بیاس میں شاید بیٹھنے کے کمرہ میں صاحب نے اور میں نے لڑکے سے پوچھا تھا۔ وارث دین۔ پریم داس ایک اور عیسائی موجود تھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اس کو کہا کہ لکھ دو۔ عبدالحمید نے میرے رو بروئے لکھا ؟ ربجے شام سے پہلے لکھا تھا۔ لکھ کر مجھے اور گواہ حاشیہ بلائے گئے تھے۔ پھر اسی روز ۶ ربجے کی گاڑی پر سوار ہو کر امر تسر چلے آئے تھے۔ ریل سے اتر کر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس لڑکے کی حفاظت کرو۔ میں پریم داس اور وارث ہمراہ ہوکر لڑکے کو سلطان ونڈ لے گئے ۔ ڈاکٹر صاحب کوٹھی پر شاید عبدالحمید کو لے گئے تھے یا نہ ہم سیدھا اس کو سلطان ونڈ لے گئے تھے۔ بسوال عدالت ۔ جب لڑکا پہلے پہل آیا تو اس کی شکل و شباہت خونی کی معلوم ہوتی تھی۔ بازار سے روٹی لا کر کھائی تھی۔ عبد الرحیم بقلم خود بقيه حاشيه سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم کرنا چاہا تھا لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ تو کیا اس جگہ بھی یہ کہو گے کہ اللہ تعالی کا ارادہ تھا کہ بلغم کو جسم عنصری آسمان پر اٹھاوے۔ سو ہر ایک شخص یا درکھے اور بے ایمانی کی راہ کو اختیار نہ ۲۰۳ کرے کہ قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ رَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا اور اس پر خود تراشیدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص اور لیس تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معہ جسم آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ لیکن یادر ہے کہ یہ قصہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے قصے کی طرح ہمارے کم فہم علماء کی غلطی ہے اور اصل حال یہ ہے کہ اس جگہ بھی رفع روحانی ہی مراد ہے۔ تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے اور کافر کا رفع روحانی نہیں ہوتا ۔ چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ کے کا اس کی یہ لفظ نہیں پڑھا گیا۔ لے مریم : ۵۸ ۲ الاعراف : ۴۱