کتاب البریہ — Page 238
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۸ ۲۰۲ نقل بیان مشمول مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہا در ضلع گورداسپور سر کار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں جرم ۷ اضابطہ فوجداری ) ۱۰ اگست ۹۷ بیان پریم داس با قرار صالح مہر عدالت دستخط حاکم 10/8/97 ولد ہیرا ذات عیسائی ساکن حال امرتسر عمر لنگه سال بیان کیا کہ اقبال حرف H میرے رو بروئے عبدالحمید نے لکھا تھا۔ ایک اور خط بھی اس نے میرے رو بر وئے مولوی نورالدین صاحب کی طرف لکھا تھا۔ یہ دونوں خط و اقبال بمقام بیاس لکھے گئے تھے۔ خط میں عبدالحمید نے مولوی نورالدین صاحب کو لکھا تھا کہ دین محمدی جھوٹا ہے اور دین عیسوی سچا ہے۔ میں عیسائی ہونے لگا ہوں۔ میں اس وقت بیاس میں ہوں ۔ اگر اب مجھے سمجھانا چاہتے ہیں تو آ کر سمجھا دیویں ۔ اور مجھ سے ٹکٹ کے واسطے پیسے مانگے ۔ میں نے کہا تھا کہ تم مولوی صاحب کو اتنا پیار کرتے ہو تو بیرنگ خط بھیج دو۔ اس نے بھیج دیا۔ پھر جواب کوئی اس خط کا نہ آیا۔ ڈاکٹر صاحب بیاس گئے تھے ان کے روبروئے عبدالحمید نے کہا تھا کہ پہلے وہ برہمن تھا رلا رام نام تھا۔ پھر مسلمان ہو گیا۔ اب مسلمان ہوں اور عبدالحمید نام ہے۔ طرف اشارہ ہے۔ اور اگر حضرت ادریس معہ جسم عصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت فِيْهَا تَحْيَوْنَ کے جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کر لینا ممتنع تھا ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہرنا منع ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔ علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو فِيهَا تَمُوتُونَ ہے یعنی زمین پر ہی مرو گےصاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی۔ پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقید و رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت اور لیس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں اور طرفہ یہ کہ زمین پر حضرت اور ایس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسی کی قبر موجود ہے۔ بعض علماء ان پختہ ثبوتوں سے تنگ آ کر یہ کہتے ہیں کہ فرض کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام مر گئے مگر کیا اللہ تعالی قادر نہیں کہ آخری زمانہ میں ان کو پھر زندہ کرے الاعراف: ٢٦