کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 630

کتاب البریہ — Page 227

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۷ ایک دیسی عیسائی کے گھر ہم سارے رہے تھے۔ جب قادیاں سے بٹالہ آیا تھا مولوی غلام مصطفیٰ چھاپہر والے کے مکان پر نہیں گیا تھا۔ مرزا صاحب نے بوجہ بدچلنی مجھے قادیاں سے نہیں نکلوایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب پیار اور خلق سے جب پہلے میں گیا پیش آئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب میرے سے مضبوط ہیں۔ لیکن حملہ کر نیوالا جو بھیجا جائے اس کو اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنی زندگی کے ایک بڑا دھو کہ ان کم فہم علماء کو یہ لگا ہوا ہے کہ جب قرآن شریف میں یہ لوگ یہ آیت پڑھتے ہیں کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبَّهَ لَهُمْ ے اور نیز یہ آیت که بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " تو اپنی غایت درجہ کی نادانی سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فی قتل اور نفی صلیب اور لفظ رفع اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہود کے ہاتھ سے بچ کر اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ۔ گویا بجز آسمان کے اور کوئی جگہ ان کے پوشیدہ کرنے کے لئے اللہ تعالی کو زمین پر نہیں ملتی تھی ۔ ہمارے نبی (۱۹۴) صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے ہاتھ سے محفوظ رکھنے کے لئے تو ایک وحشت ناک اور سانپوں سے بھری ہوئی غار کفایت ہو گئی مگر مسیح کے دشمن زمین پر اس کو نہیں چھوڑ سکتے تھے خواہ اللہ تعالیٰ ان کو بچانے کے لئے زمین پر کیسی ہی تدبیر کرتا اس لئے مجبوراً یہودیوں سے اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ عاجز آکر ان کے لئے آسمان تجویز کیا۔ قرآن میں تو رفع الی السماء کا ذکر بھی نہیں بلکہ رفع الی اللہ کا ذکر ہے جو ہر ایک مومن کے لئے ہوتا ہے۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہی قصہ صحیح ہے تو قرآن شریف نے جو اس قصہ کو لکھا تو ان آیات کی شان نزول کیا تھی اور کون سا جھگڑا یہود اور نصاری میں حضرت عیسی کے آسمان پر معہ جسم عنصری کے جانے کے متعلق تھا جس جھگڑے کو قرآن شریف نے ان آیات کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہا۔ ظاہر ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ یہود اور نصاری کے اختلافات کو حق اور راستی کے ساتھ فیصلہ کرے۔ سو یا د رہے کہ النساء : ۱۵۸ ۲ النساء : ۱۵۹