کتاب البریہ — Page 226
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۶ نہیں کہا تھا کہ میں ڈاکٹر صاحب کو مارنے آیا ہوں ۔ بھگت پریم داس سے بھی نہیں کہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب مجھ کو ہمراہ امرتسر لے آئے تھے اور مجھے انہوں نے معافی دے دی تھی کہ نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ بیاس سے چل کر اسی دن سورج غروب ہونے سے پہلے امرتسر پہنچ گئے تھے ۔ رات کو ڈاکٹر صاحب نے سلطان پنڈ میں جو امرتسر سے ایک میل (۱۹۳) کے فاصلہ پر ہے بھیج دیا اور وارث اور پریم داس وعبدالرحیم میرے ساتھ رہے تھے۔ লढाके کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔ افسوس ہے کہ ہمارے سادہ لوح علماء صرف نزول کا لفظ احادیث میں دیکھ کر اس بلا میں گرفتار ہو گئے ہیں کہ خواہ نخواہ امیدیں باندھ رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے واپس آئیں گے اور وہ دن ایک بڑے تماشے اور نظارہ کا دن ہوگا کہ ان کے دائیں با میں فرشتے ساتھ ساتھ ہوں گے جو ان کو آسمان سے اٹھا کر لائیں گے ۔ افسوس کہ یہ لوگ کتابیں تو پڑھتے ہیں مگر آنکھ بند کر کے۔ فرشتے تو ہر ایک انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور بموجب حدیث صحیح کے طالب العلموں پر اپنے پروں کا سایہ ڈالتے ہیں۔ اگر مسیح کو فرشتے پر کا کوفرشتے اٹھا ئیں تو کیوں نرالے طور پر اس بات کو مانا جائے۔ قرآن شریف سے تو یہ بھی ثابت ہے کہ ہر ایک شخص کو خدا تعالی اٹھائے پھرتا ہے حَمَلْتُهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یا مگر کیا خدا کسی کو نظر آتا ہے؟ یہ سب استعارات ہیں۔ مگر ایک بیوقوف فرقہ چاہتا ہے کہ ان کو حقیقت کے رنگ میں دیکھیں اور اس طرح پر ناحق مخالفوں کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر حدیثوں کا مقصد یہ تھا کہ وہی مسیح جو آسمان پر گیا تھا واپس آئے گا تو اس صورت میں نزول کا لفظ بولنا بے محل تھا۔ ایسے موقعہ پر یعنی جہاں کسی کا واپس آنا بیان کیا جاتا ہے عرب کے فصیح لوگ رجوع بولا کرتے ہیں نہ نزول۔ پھر کیونکر ایسا غیر فصیح اور بے محل لفظ اس افصح الفصحاء اور اعرف الناس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے جو تمام فصحاء کا سردار ہے۔ بنی اسرآئیل:اے