کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 630

کتاب البریہ — Page xxvii

13 اِس سے متعلق دوسرے الہامات کا ذکر کر کے فرماتے ہیں:۔’’پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلّت اور اہانت اور ملامتِ خلق (اور پھراخیر حکم ابراء) یعنی بے قصور ٹھہرانا۔پھر بعد اِس کے الہام ہوا۔و فیہ شی ء یعنی بریّت تو ہو گی مگر اُس میں کچھ چیز ہو گی (یہ اُس نوٹس کی طرف اشارہ تھا جو بری کرنے کے بعد لکھا گیا تھا کہ طرز مباحثہ نرم چاہئے) پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ بلجت اٰیاتی کہ میرے نشان روشن ہوں گے۔اور اُن کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو جائیں گے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۳۴۱،۳۴۲) راجہ غلام حیدر ریڈر ڈی۔سی کا بیان اس جگہ راجہ غلام حیدر صاحب ریٹائرڈ تحصیل دار مرحوم ساکن راولپنڈی کا وہ بیان درج کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے ڈاکٹر سید بشارت احمد صاحب مرحوم کو اپنی مرض الموت میں خود لکھوا کر بھجوایا تھا۔اور ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنی کتاب مجدّدِ اعظم کے حاشیہ صفحہ ۵۴۱۔۵۴۴ میں درج کیا ہے۔راجہ صاحب کا یہ بیان اس لئے بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ احمدی نہ تھے۔آپ فرماتے ہیں:۔’’مَیں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کے زمانہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ریڈر (مسل خوان) تھا۔مَیں پانچ چھ روز کی رخصت پر اپنے گھر راولپنڈی گیا ہوا تھا۔رخصت سے واپسی پر جب میں امرتسر پہنچا اور سیکنڈ کلاس کے ڈبّہ میں بہ اُمید روانگی بیٹھا ہوا تھا جو دو۲ یوروپین صاحبان جن میں سے ایک تو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک خود تھا اور دوسرا کلارک جو وکیل تھا اُسی ڈبّہ میں تشریف لائے۔اتنے میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی آ گئے۔اور وہ اُسی سیٹ پر جہاں میں بیٹھاتھا بیٹھ گئے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک میرے زمانہ ایّام ملازمت ضلع سیالکوٹ کے واقف تھے اور مولوی محمد حسین صاحب سے بھی اچھی واقفیت تھی اس واسطے ایک دوسرے سے باتیں چیتیں شروع ہو گئیں۔تب مجھے معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین