کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 630

کتاب البریہ — Page 210

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۰ دیکھا نہیں۔ ان پر حملہ کئے جانے کی بابت مجھے کوئی علم نہیں ہے کہ کب حملے ہوئے اور کیا کیا حملے ہوئے اور کس نے حملے کئے۔ جب میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو میرا ارادہ مارنے کا تھا۔ بعد میں ارادہ بدل گیا۔ مجھے لقمان نے مرزا صاحب کے پاس نہیں بھیجا تھا اور نہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بھیجا ہے۔ ہمارے خاندان میں کوئی رنج مولوی برہان الدین کے مرزا صاحب ۷۷ کا مرید ہو جانے سے نہیں ہے۔ لقمان اس وقت جہلم میں ہے اور برہان الدین کا پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہے۔ (بسوال مستغیث کہا) کہ بھگت رام سے میری مراد بھگت پریم داس سے ہے۔ جس کی موجودگی میں خط مولوی نور الدین کو لکھا تھا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جب موقعہ لگے ڈاکٹر صاحب (مستغیث ) کو ماردینا اور ہمارے پاس چلے آنا پھر تمہیں کوئی نہ مارے گا۔ امرتسر جا کر ملاقات ڈاکٹر صاحب سے کرنے پر میرا ارادہ بدل گیا تھا۔ امرتسر جانے سے پہلے بھی ڈاکٹر صاحب کو آگے نہیں دیکھا تھا اور نہ جان پہچان تھا۔ (بسوال مرزا صاحب) جب میں مرزا صاحب کا مرید ہوا تھا تو مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ کہو میں احمد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوں اور کہا کہ پچھلے گناہوں کی معافی خدا سے چاہو اور آئندہ نماز پڑھو۔ قرآن پڑھو۔ ((نوٹ) مرز اصاحب کہتے ہیں کہ ہم کو یاد نہیں ہے کہ گواہ ہمارا دست بیج ہوا تھایانہ ) چھا پہ شدہ شرائط بیعت کی شرط چہارم مجھ کو وقت بیعت کے مرزا صاحب نے نہیں سنائی اور نہ سمجھائی تھی ۔ حرف K طریق انصاف اور حق پرستی یہ تھا کہ خبر متواتر کو رد نہ کرتے ۔ ہاں ان معنوں کو رد کر دیتے جو نادان مولویوں نے کئے جن سے کئی قسم کے تناقض لازم آئے اور کئی تناقض جمع بھی کر لئے اور درحقیقت یہ ناقص الفہم مولویوں کا قصور ہے جو انہوں نے ایک سیدھی اور صاف پیشگوئی کے ایسے معنے کر کے جو تناقضات کا مجموعہ تھے محقق طبع لوگوں کو بڑی پریشانی اور سرگردانی میں ڈال دیا۔ اب خدا تعالیٰ نے اس کے بچے اور صحیح معنے کھول کر جو تناقضات اور نا معقولیت سے بالکل پاک ہیں ہر ایک انصاف پسند محقق کو یہ موقعہ دیا ہے کہ وہ اس خبر متواتر کو مان کر اس کے مصداق کی تلاش میں لگ جائے اور خدا تعالی ۷۸