کتاب البریہ — Page 209
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۹ یہ نام حاصل کیا ہے۔ قریب ایک ماہ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس امرتسر میں رہا۔ پہلے پانچ چھ روز امرتسر رہا۔ پھر بیاس پر رہا۔ کاغذ حرف H مشمول مثل میری قلم کا لکھا ہوا ہے جو بطورا قبال کے میں نے ڈاکٹر صاحب کو لکھ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت موجود تھے جب میں نے لکھ کر دیا تھا۔ بیاس سے ایک خط میں نے مولوی نورالدین صاحب کو لکھا تھا کہ میں عیسائی ہو جاؤں گا۔ یہ سچا دین ہے محمدی دین سچا نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ایک مرید مرزا صاحب کا ۱۷۲۶ ہمارے پاس آیا ہے ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اس کو عیسائی بنائیں یا نہ۔ جب مولوی نور الدین صاحب کو خط لکھا ڈاکٹر صاحب کو علم نہ تھا اور عیسائیوں کو بتلایا تھا۔ کاغذ حرف H کے لکھنے سے پہلے خط مولوی نورالدین صاحب کو لکھا تھا۔ بھگت رام اور ایک اور منشی جس کا نام یاد نہیں موجود تھے۔ جب میں نے خط مولوی نورالدین صاحب کو لکھا تھا وہ دیکھ رہے تھے۔ قریب ایک ماہ کے ہوا ہے کہ میں قادیاں سے روانہ ہو کر امرتسر مرزا صاحب کے پاس سے ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تھا۔ مولوی نورالدین کی طرف خط بھیجنے سے یہ مطلب تھا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ میں بیاس میں ہوں۔ جب قادیاں سے امرتسر گیا تھا ۴ ، کرایہ دیا تھا اور قادیاں میں ٹوکری اٹھانے کی اجرت میں ۱۲ار مرزا صاحب نے مجھے دیئے تھے۔ میں نے عبداللہ آتھم کی بابت سنا ہوا ہے ان کو قدرت اور عقلی نظام کو واقعات کی صحت یا عدم صحت کے لئے ایک معیار قرار دیتے ہیں اس ۷۲ کی پیشگوئی سے باوجود اعلیٰ درجہ کے تواتر کے جو اس میں ہے انکار کرنا پڑا اور درحقیقت اگر اس پیشگوئی کے یہی معنے کئے جائیں کہ جو اس قدر تناقضات کو اپنے اندر رکھتے ہیں تو انسانی عقل ان تناقضات کی تطبیق سے عاجز آ کر آخر اس پریشانی سے رہائی اس میں دیکھتی ہے کہ اس پیشگوئی کی صحت سے بھی انکار کرے۔ سو یہی سبب تھا کہ نیچر اور عقل کے دلدادہ باوجود پیشگوئی کے اس قدر تواتر کے اس عظیم الشان پیشگوئی سے انکاری ہو گئے ۔ لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے بھی انکار کرنے میں بڑی شتاب کاری سے کام لیا ہے کیونکہ اخبار متواترہ سے کوئی منظمند انکار نہیں کر سکتا اور جو خبر تو اتر کے درجہ پر پہنچ جائے ممکن نہیں کہ اس میں کذب کا شائبہ ہو ۔ پس ےے ایک