کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 630

کتاب البریہ — Page 208

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۸ اور مرزا صاحب نے سکھلایا تھا۔ قرآن کی تعلیم نہیں دی تھی۔ گجرات سے آکر صرف چار روز قادیاں میں مظہر رہا تھا۔ میں جہلم واپس چلا گیا تھا۔ اور چا لقمان کے گھر میں جا کر رہا تھا۔ برہان الدین کے گھر نہیں گیا تھا۔ وہاں میرا چچا مولوی برہان الدین غازی ہے اور وہ مرزا صاحب کا ۷۵ مرید ہے دوسرا چا میر القمان ہے مگر وہ مرید مرزا صاحب کا نہیں ہے۔ میری ماں نے بعد میرے والد کے مرجانے کے لقمان سے نکاح کر لیا ہوا ہے اور اس سے اولاد بھی ہے۔ میرے دونوں بچوں نے میری پرورش کی۔ دو تین دن جہلم رہ کر پھر میں قادیاں میں چلا آیا۔ مرزا صاحب مجھ سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ ایک روز ایک علیحدہ مکان میں مجھے لے گئے اور کہا کہ جاؤ امرتسر میں اور ڈاکٹر کلارک صاحب کو پتھر مار کر مار دے۔ میں نے کہا کہ میں کیوں یہ کام کروں۔ تو مرزا صاحب نے کہا کہ اگر دین محمدی پر ہو کر تم قتل کرو گے تو تم مقبول ہو جاؤ گے۔ پہلے مجھے پڑھایا کرتے تھے پھر جب مجھے قتل کرنے کے واسطے مرزا صاحب نے کہا تو مجھے یہ کہا کہ اب تم چار پانچ روز مزدوری کرو تا کہ لوگ یہ کہیں کہ مزدوری کرتا آیا ہے اور پھر یہ کہا کہ جب تو جانے لگے تو ہم کو گالیاں نکال کر جاؤ۔ میں امرتسر چلا گیا اور ڈاکٹر صاحب مستغیث مقدمہ ھذا کے پاس گیا اور کہا کہ میں عیسائی ہونے آیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے میری بڑی خاطر تواضع کی اور مجھے ہسپتال میں بھیج دیا۔ مجھے مرزا صاحب نے کہا تھا کہ پہلے اپنا نام دلارام بتلانا پھر عبدالمجید بتلانا کہ مسلمان ہو کر پھیلا ہوا ہوگا اور عیسائی طاقت اور دولت سب طاقتوں اور دولتوں سے بڑھتی ہوئی ہوگی۔ اور پھر ایک طرف یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ مسیح اپنے وقت کا حاکم اور امام اور مہدی ہوگا۔ اور پھر دوسری طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح مہدی اور امام نہیں بلکہ مہدی کوئی اور ہو گا جو بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔ غرض اس قسم کے بہت سے تناقضات جمع کر کے اس پیشگوئی کی صحت کی نسبت لوگوں کو تذبذب اور شک میں ڈال دیا ۔ کیونکہ جو امرکئی تناقضات کا مجموعہ ہو ممکن نہیں کہ وہ صحیح ہو۔ پھر اہل عقل لوگ کیونکر اس کو قبول کر سکیں اور کیونکر اپنے جو ہر عقل کو پیروں کے نیچے کچل کر اس ٹیٹ ھے طریق پر قدم ماریں۔ اسی وجہ سے حال کے ان نو تعلیم یافتہ لوگوں کو جو نیچیر اور قانون ۱۷۵