کتاب البریہ — Page 207
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۷ نقل بیان گواه مشمول مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادرڈ پٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور ۱۷۴۶ مبر عدالت و تخط حاکم مصدق دالت سرکار بذریعہ ہنری مارٹن کلارک ڈاکٹر مشنری امرتسر بنام مرزاغلام احمد سکنہ قادیاں مستغيث جرم ۷، اضابطہ فوجداری مستغاث علیہ بیان گواه استغاثه با قرار صالح عبدالحمید ولد سلطان محمود ساکن جہلم ذات لگھڑ عمر ع سال بیان کیا:۔ میں اب متلاشی عیسائی ہوں پہلے محمدی تھا۔ میں عیسائی لوگوں کے پاس گجرات میں گیا تھا چار ماہ ہوئے ہیں۔ اس وقت مرزا صاحب سے میری واقفیت نہ تھی۔ مونگ رسول ریف درکس پر جان محمد بابو کے تحت میٹ تھا۔ دو تین ماہ عیسائیوں کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ وہاں محمدی لوگوں نے مجھے بدلا لیا تھا۔ اس لئے گجرات میں چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے بہت مرید گجرات میں ہیں۔ انہوں نے مجھے قادیان میں بھیجا۔ جب میں وہاں گیا میرا چابرہان الدین اس وقت قادیاں میں نہ تھا۔ مجھے صلاح دی گئی تھی کہ جو شکوک تمہارے ہیں قادیاں جا کر رفع کرلو۔ مجھے مولوی نورالدین اشیه کو تسلیم کر کے ان کو یہ ماننا پڑا کہ حضرت عیسی در حقیقت فوت ہو گئے ہیں اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی انہوں نے رکھا کہ کسی زمانہ میں خود حضرت عیسی علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں فوت نہیں ہوئے ۔ اور پھر ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک نبی آنے والا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام جو کہ نبی ہیں ۔ اور ایک طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح موعود دجال کے وقت آئے گا اور دجال کا تمام روئے زمین پر بجز حرمین شریفین تسلط ہو جائے گا ۔ اور دوسری طرف ہمو جب حدیث صحیح مرفوع متصل صحیح بخاری اس بات کو بھی انہیں ما نا پڑا کہ مسیح موعود صلیب کے غلبہ کے وقت آئے گا یعنی اس وقت جبکہ عیسائی مذہب دنیا میں زور کے ساتھ