کتاب البریہ — Page 206
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۶ ۱۷۳ نقل بیان عدالت فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس احب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور مرجوعه فیصلہ نمبر بسته نمبر مقدمہ ۹ را گست ۹۷ زیر تجویز از محکمه مهر عدالت) دستخط حاکم 15/8/97 سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۰۷ ا ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد قادیانی بیان مرزا غلام احمد بلا حلف ۱۳ اگست ۹۷ ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مرجائیں گے۔ ہرگز ہمارا منشا کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مر جاویں گے۔ عبداللہ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جاوے گا۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اس کے واسطے کی تھی ۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ تھی۔ لیکھرام کی درخواست پر اس کے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی ۔ ہم نے کی تھی چنانچہ پوری ہوئی۔ سنایا گیا درست ہے۔ سب بیان درست درج ہوا ہے۔ ۱۷۳ دستخط حاکم کے سر پر ظہور کرے گا۔ اور یہ پیشگوئی اگر چہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے۔ مگر احادیث کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عند العقل ممتنع ہے۔ اگر تو اتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلیں کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو اس درجہ تو اتر پر ہو جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے۔ جس شخص کو اسلامی تاریخ سے خبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو تواتر کے رو سے اس پیشگوئی سے بڑھ کر ہو۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشگوئی کا انکار کرے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ متواترات سے انکار کرنا گویا اسلام کا انکار ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ باوجود اس تواتر کے ہمارے زمانہ فیج اعوج کے علماء نے اس پیشگوئی کے صحیح صحیح معنے سمجھنے میں بڑا دھوکہ کھایا ہے اور باعث سخت غلط نہی کے اپنے عقیدہ میں قابل شرم تناقضات جمع کر لئے ہیں۔ یعنی ایک طرف تو قرآن شریف پر ایمان لا کر اور احادیث صحیحہ