کتاب البریہ — Page xxv
11 کے پاس واپس بھیج دیا۔جس سے ظاہر ہو گیا کہ وہ درحقیقت ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے نہیں بھیجا گیاتھا ورنہ وہ سیدھا اُس کے پاس جاتا۔ڈاکٹر کلارک مستغیث نے اپنے اس بیان کو کہ عبدالحمید اُس کے قتل کے لئے بھیجا گیا تھا سچّا ثابت کرنے کے لئے لیکھرام کے قتل کے واقعہ کو بطور تائید پیش کیا تھا کہ ’’اس کے بعد اس (مرزا صاحب۔ناقل) نے ان تمام کے موت کی پیشگوئی کی جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا۔اور میرا حصّہ بہت ہی بھاری تھا۔اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے۔اس مباحثہ کے بعد خاص دلچسپی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔چار الگ کوششیں اُس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔۔۔اور یہ کوششیں عام طور پر مرز ا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔اُس کی موت کے بعد مَیں ہی پیش نظر رہا ہوں۔اور کئی ایک مبہم طریقوں سے یہ پیشگوئی مرزا صاحب کی تصنیفات میں مجھے یاد دلائی گئی ہے۔جس کے لئے سب سے بڑی وہ کوشش تھی جس کو عبدالحمید نے بیان کیا۔لاہور میں لیکھرام کی موت کے بعد جس کو تمام لوگ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں میرے پاس اِس بات کے یقین کرنے کے لئے خاص وجہ تھی کہ میری جان لینے کی کوئی نہ کوئی کوشش کی جائے گی۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۱۶۳،۱۶۴) اﷲ تعالیٰ نے ان کے مکر و فریب کا بھانڈا ایسے رنگ میں پھوڑا اور اس کی حقیقت ایسے طریق سے آشکارا کی کہ کسی کو اِس جھوٹ کی حمایت میں کھڑے رہنے کی تاب نہ رہ سکی بلکہ مکر کرنے والوں کو خود شرمندہ ہونا پڑا۔اور خود مستغیث ڈاکٹر کلارک کو بھی اپنی خیر اسی میں نظر آئی کہ وہ استغاثہ کو واپس لے لیں۔چنانچہ اُس کی درخواست پر حاکم کو یہ لکھنا پڑا۔Dr۔Clark states he wishes to resign the post of prosecutor۔ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ وہ مستغیث ہونے سے دست بردار ہوتا ہے۔(۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۲۸۲)