کتاب البریہ — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۹ مولوی محمد حسین کو جانتا ہوں ۹۳ء میں جب عبدالحق کا مرزا صاحب سے مباہلہ ہوا تھا ایک یا (۱۲۶) دو دفعہ ہم سے ملے تھے یاد نہیں پہلے کب ملا تھا چھ ماہ گذشتہ سے میں نے اس کو نہیں دیکھا سب سے آخری دفعہ ۹۵ء میں اس کو دیکھا تھا مولوی محمدحسین محمد علی آج سے چھ ماہ گذشتہ کے اندر ہم نے نہیں دیکھا اور نہ ہم نے ان کو ہ ار ا گست ۹۷ء یا ۹ اگست ۹۷ء کو بمقام بٹالہ دیکھا ہے ہرگز بٹالہ میں نہیں دیکھا میں جانتا ہوں کہ مولوی محمد حسین اور مرزا صاحب کی سخت دشمنی ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آریہ لوگ بھی مرزا صاحب کے مخالف ہیں کسی خاص طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جوسید ھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی ۔ میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔ غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔ ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں ۔ میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے ۔ اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا حتی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنعم پسند روحانی منازل کے (۱۶۷)