کتاب البریہ — Page 198
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۸ (۱۲۵) کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ لیکن اور عیسائیوں بلکہ محمد یوں کو بھی شک ہوا تھا کہ آتھم کی پیشگوئی پوری کرنے آیا ہے۔ ہم سے عیسائیوں نے کہا تھا کہ تم اچھا نہیں کرتے کہ اس کو آتھم صاحب کے پاس جانے دیتے ہو۔ ہم نے مطلق خیال نہیں کیا تھا کہ وہ آتھم کو مار ڈالے گا کیونکہ اس کو میں جانتا تھا کہ راست آدمی ہے سوائے کتاب مولوی محمد حسین کے ہم خود مرزا صاحب کے اشتہارات سے قیاس کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کو علم لیکھرام کے قتل کا خوب تھا۔ میں پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لئے تاکید کر دی تھی دے دیتا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گذار تا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔ پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھالیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ میں تمام رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا۔ یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔ غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا خدا تعالی نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا ۔ اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں گذر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ مین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معه حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا۔ اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستان