کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 630

کتاب البریہ — Page 197

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۷ وہاں رہا تھا۔ عبدالرحیم کے بیان پر ہم کہتے ہیں کہ وہ قادیاں سے آیا تھا۔ ۳۱؍ جولائی ۹۳ ء کو پریم داس نے مجھ سے کہا تھا کہ دو آدمی اس کی بابت ذکر کرتے تھے۔ اقبال سے پہلے اس نے ہم سے کہا تھا ، اس نے کہا تھا کہ بیاس میں وہ دو آدمی دیکھے تھے ہم نے خود عبد الحمید سے دو آدمیوں کی بابت پوچھا تھا جن کا پریم داس نے ذکر کیا تھا عبد الحمید نے کہا کہ مجھے ان کا کچھ علم نہیں ہے پچاس یا پچیس ہزار کے انعام کا اشتہار حال میں دیا ہے کہ جو مرزا صاحب کی طرف سے جاری شدہ دیکھا تھا مگر پیش نہیں کر سکتا ، یاد نہیں کب دیکھا تھا معلوم نہیں کس کی بابت وہ اشتہار تھا ان اشتہارات سے ہم نے یہ رائے قائم کی تھی کہ وہ اشتہارات کا رو پیادا کر سکتے ہیں مگر ادا نہیں کریں گے میں کبھی قادیاں نہیں گیا اور نہ ذاتی علم ان کی دانش مندی کا ہے میر محمد سعید بذریعہ ناطہ مرزا صاحب کا رشتہ دار ہے مجھے زیادہ تشریح معلوم نہیں یوسف خاں کے عیسائی ہونے کے بعد میر محمد سعید عیسائی ہوا تھا ۹۳ء کے مباحثہ سے ہمارے سے دشمنی مرزا صاحب کی طرف سے ہوئی ہم کو ذرہ بھر بھی دشمنی ان سے نہیں ہے ۹۴ء میں جب محمد سعید عیسائی ہونے آیا ہم کو کوئی اشتباہ اس کی نسبت نہیں ہوا کہ وہ ہم کو مارے گا یوسف خان بھی ۹۴ء میں عیسائی ہوا تھا اس کی نسبت مجھے تو کلام کو اعتراض ہو۔ بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔ ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ الیسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھے کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ " کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں ۔ سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجالانا بہتر ہے پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ (۱۲۵) نشست گاہ میں اپنا کھانا منگوا تا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے