کتاب البریہ — Page 180
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۰ کیونکہ بٹالہ اور گورداسپور میں مشنری صاحب موجود ہیں اور نہ اس نے کوئی خاص وجہ بتلائی کہ وہ کیوں خاص کر میرے پاس آیا ہے جب کہ اور بھی مشنری صاحب موجود ہیں۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اتفاقیہ ایک شخص کے آپ کی کوٹھی بتلانے پر آیا ہوں۔ جب ہم نے اسے پوچھا کہ تم نے کرایہ ریل کا کہاں سے لیا تو وہ بتلا نہ سکا۔ ان باتوں پر ہماری خاص توجہ غمور کے واسطے ہوئی اور غور طلب معاملہ ہم نے سمجھا اور یہ میرے دل میں گذرا کہ اس کے ۱۳۹) بیانات لیکھرام کے قاتل کے بیانات سے عجیب تشبیہ رکھتے ہیں۔ پس ہم نے اس کی طرف خاص دھیان رکھا۔ پس اس سے گفتگو کر کے ہم نے قصد مذکور کیا۔ اس شخص نے کچھ واقفیت دین عیسوی سے ظاہر کی ہم نے پوچھا کہاں سے یہ واقفیت حاصل کی اس نے کہا کہ قادیاں میں ایک عیسائی بٹالہ کا رہتا ہے جو مسلمان ہو کر مرزا صاحب کے یہاں رہتا ہے نام اس کا سائیاں ہے۔ اس کے پاس انجیل مقدس تھی اورمطالعہ کیا کرتا تھا۔ جہاں سے مجھے شوق ورغبت ہوئی۔ میں نے اس نوجوان کو مہاں سنگھ گیٹ والے شفاخانہ میں بھیج دیا کہ وہاں طالب علموں کے پاس رہے اور تعلیم پائے ۔ اور ہم نے اس کو بوتلوں کے صاف کرنے وغیرہ کا کام دیا۔ قریباً پانچ چھ یوم تک وہ اس جگہ رہا۔ اول اس میں قابل توجہ یہ بات تھی کہ وہ مرزا صاحب ۱۳۹ اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔ اور جب میری عمر قریبا دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتا ہیں اور کچھ قواعد نحو اُن سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا