کتاب البریہ — Page 176
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۶ ہم نے پہلے سے یہ تمام پیش گوئی کی ہوئی تھی اور اس کے حوالہ سے الہامی طور پر اشتہار دیا ہوگا ) قاتل کبھی نہیں ملے گا۔ یہ امر مرزا صاحب نے کہا تھا ۔ عام مشہور ہے۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ لیکھرام کا قاتل بھی قتل کیا گیا ہے۔ جو کاغذات اس بارے میں ہمارے پاس تھے وہ سرکار میں ہم نے بھیج دیئے تھے۔ اور ایک اور وجہ ہم کوایذاء پہنچانے کے واسطے یہ تھی کہ جب سے مسٹرعبداللہ آ تقم انتقال کر گئے صرف میں ہی اس مباحثہ کے متعلق ایک سرگروہ رہ گیا ہوں۔ اور مرزا صاحب ہر طرح سے ہم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا اور ہماری نسبت واہیات طریقہ اختیار کر رکھا ہے اپنی قلم اور زبان کو قابو میں نہیں رکھا ہوا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ایک کتاب انجام آتھم شائع کی جو ہر قسم کی ہزلیات سے پر ہے اور اس کتاب میں صفحہ ۴۴ پر اس قدر جرات کی ہے کہ ہمارے حق میں لکھا ہے کہ مقابلہ کے واسطے آؤ۔ اس کتاب پر حرف F لگایا گیا (مرزا صاحب۔ تسلیم کیا کہ واقعی یہ کتاب ہم نے شائع کی تھی۔ ۴ارستمبر ۹۶، کو شائع کی تھی ) مرزا صاحب۔ مجھے کو الہامی طور پر خبر دی گئی تھی کہ دیا نند مر جاوے گا اور یہ خبر قبل از وقت دی گئی تھی اور بعض آر یہ لوگوں کوعلم تھا میں نے بعض کو اطلاع کر دی تھی۔ لیکھرام کے مرنے سے قریب پانچ سال پہلے میں نے اس کے مرنے کی اطلاع دی تھی۔ سرسید احمد خاں کی بابت میں نے پیشگوئی کی تھی کہ اس پر آفت آئے گی۔ احمد بیگ اور اس کی لڑکی کے بارے میں اور داماد کے بارے میں میں نے پیشگوئی کی تھی۔ نمبر 9 مولوی محمد حسین بٹالوی کی بابت ۴۰ یوم کے مرنے یا تکلیف کی بابت کوئی پیش گوئی نہیں کی آئینہ کمالات مشتہر ۹۳ ، صفحہ ۶۰۴ نمبر ۱۰ عبداللہ آتھم کی بابت۔ پھیل گیا تھا۔ غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے ۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے ۱۸۵۷ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گذاری میں پچاس گھوڑے معہ پچاس یہ بالکل جھوٹ ہے ایسا لفظ کبھی میرے منہ سے نہیں نکلا ۔ منہ