کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 630

کتاب البریہ — Page 175

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۵ , ۱۴۵ لگا دی۔ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہو گیا تھا اور اب پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں ۔ اس نے اپنا رسوخ اور اعتبار لیکھرام کے ساتھ پیدا کیا اور یہ واقعہ قتل اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا یہ قتل عام طور پر نسبت مرزاغلام احمد کے قریباً منسوب کیا جاتا ہے۔ میں ایک کتاب مصنفہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیش کرتا ہوں حرف E جس میں وہ مرزا صاحب کو اس قتل کا الزام لگاتے ہیں ہیں (میں نے مرزا صاحب کچھ کچھ کتاب حرف E کو دیکھا ہے ) مرزا صاحب نے ۲۲ مارچ ۹۷ کو ایک بل ضیاء الاسلام پر لیس قادیان شائع کیا جو اس امر پر بڑ از وردیتا ہے کہ ہم کو خبر تھی کہ لیکھرام 4 مارچ ۹۷ء کو 4 بجے شام کے مارا جاوے گا۔ مگر واقعہ کے بعد یہ بل شائع کیا گیا تھا اور کہ یہ امر ہماری پیشگوئی کے مطابق تھا۔ جواب مرزا صاحب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔ اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی (۱۴۴ جلا یا گیا جس میں سے پانسو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام مردوزن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے ۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی ۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیاں میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنائی تھی۔ سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے (۱۳۵) اور لاہور سے لے کر پشا ور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ نوٹ:۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد حسین نے ضرور کلار کو کہا ہوگا کہ لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے لعنة الله على الكاذبين - منه