کتاب البریہ — Page 162
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۲ بالکل جھوٹ تھی۔ اور اس کا نام عبدالحمید تھا۔ نہ عبدالمجید جیسا اس نے بیان کیا تھا۔ نہ وہ بٹالہ کا برہمن تھا۔ بلکہ پیدائشی مسلمان علاقہ جہلم سے تھا۔ اس کا چا برہان الدین غازی ایک مشہور (۳۳) مذہبی جنونی ہے۔ ان کا تمام کا تمام خاندان میرزا قادیانی پر فدائی مرید ہے۔ یہ نوجوان عیسائی مذہب کے متلاشیوں کی طرح گجرات میں رہا تھا۔ اس نے اپنے چچا کے چالیس روپے چرا کر بُرے کاموں میں خرچ کئے۔ جس پر اس کے چچانے میرزا قادیانی کے پاس اس کو بھیج دیا۔ میں خود بیاس گیا۔ اور پھر اس سے دریافت کیا۔ اور پانچ گواہوں کے سامنے اس نے کھلا کھلا اقرار کیا کہ اسے میرزاغلام احمد نے میرے قتل کے لئے بھیجا ہے۔ وہ موقعہ کی تلاش میں تھا کہ جب کبھی وہ مجھے سویا ہوا یا کسی اور حالت میں پائے تو میرے سر کو پتھر سے یا کسی اور ایسی چیز سے پھوڑے۔ اس نے یہ تمام واقعات اپنی مرضی سے لکھے ۔ میں اس لکھے ہوئے کاغذ کو پیش کرتا ہوں جس پر اس نے آٹھ گواہوں کے سامنے دستخط کئے۔ میری واقفیت میرزا صاحب سے ۱۱۳۴ حاشیه در حاشیه کا قائم مقام ہو جائے ۔ تا اگر ایسی خوش بیانی سے کسی کا وقت خوش ہو تو اس سوانح نویس کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے دعا بھی کرے ۔ اور صفحات تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں کہ جن بزرگ محققوں نے نیک نیتی اور افادہ عام کے لئے قوم کے ممتاز شخصوں کے تذکرے لکھے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا ہے ۔ اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پر دادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل بر لاس ہے جلد اور میرے بزرگوں کے یہ عرصہ سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا کہ خدا تعالیٰ کے متواتر الہامات سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میرے باپ دادے فارسی الاصل ہیں۔ وہ تمام الہامات میں نے ان ہی دنوں میں براہین احمدیہ کے حصہ دوم میں درج کر دیئے تھے جن میں سے میری نسبت ایک یہ الہام ہے خُذوا التوحيد