کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 630

کتاب البریہ — Page 160

روحانی خزائن جلد ۱۳ 17۔ کا مرید تھا۔ میرا ایک اور چچا لقمان تھا۔ اس نے میری والدہ سے میرے باپ کے مرنے ۱۳۲ کے بعد شادی کی ۔ کوئی آدمی موجود نہ تھا جب مرزا صاحب نے مجھے امرتسر جانے کی تعلیم دی۔ مجھے وہ اپنے مکان کے ایک الگ کمرے میں لے گیا۔ اور مجھ سے یہ کہا۔ میں صرف قرآن پڑھتا تھا جب میں میرزا صاحب کے پاس تھا۔ مولوی نور الدین مجھے پڑھاتا تھا۔ میرزا صاحب مجھے اس خاص دن سے پہلے جب اس نے مجھے اس کام کے لئے کہا۔ بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے اس نے مجھے کبھی ڈاکٹر کلارک سے قتل کرنے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حکیم نورالدین نے۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کوئی اور آدمی قادیان سے میرے بعد آیا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا کہ میں ڈاکٹر کلارک کو کسی موقعہ پر جب میں اسے اکیلا پاؤں پتھر سے مار ڈالوں۔ میرا چچا برہان الدین پُر جوش مسلمان تھا۔ مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ ڈاکٹر کلارک کو قتل کرنے کے بعد قادیاں میں چلے آنا۔ جہاں بالکل محفوظ رہو گے۔ میں ذات کا لگھڑ ہوں ۔ میں سولہ یا سترہ برس کا ہوں۔ دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دستخط را کاپی صحیح وسقط بیڈ کلرک یکم اگست ۱۸۹۷ء دستخط واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقویٰ یا علم ومعرفت یا تائید دین یا ہمدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لئے حاصل کریں اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولو العزم لوگوں کے حالات معلوم کر کے اس شوکت اور شان کے قائل ہو جائیں جو اسلام کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے تا اس کو حمایت قوم میں مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں اور یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کر سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کے لئے کسی قدر مفصل واقعات کے جاننے کی ہر ایک کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک نامور انسان کے مہر پڑھایا گیا اور صیح تسلیم کیا گیا