کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 630

کتاب البریہ — Page 156

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۶ مسلمانوں کے لئے یہ ایک بند اور روک بنائی تھی تا آئندہ کوئی شخص ان کا مقابلہ نہ کرے۔ اور اس بات سے ڈر جایا کریں کہ ان کے الفاظ سخت الفاظ متصور ہو کر قانون کے نیچے لائے جائیں گے ۔ گویا اس طور سے پادری صاحبوں کی مراد پوری ہوگی کہ وہ جس طور سے چاہیں ۱۳۹ گالیاں دیں۔ مگر دوسرا شخص نرمی کے ساتھ بھی ان کے مقابل پر سر نہ اٹھاوے۔ پس نہایت ضروری تھا کہ اپنی گورنمنٹ عالیہ کو حقیقت حال سے اطلاع دی جائے ۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہماری یہ گورنمنٹ مذہبی امور میں ہر گز پادریوں کی رعایت نہیں کرے گی اور اس بات پر اطلاع پا کر کہ مباحثات میں ہمیشہ زیادتی پادریوں کی طرف سے ہوتی رہی ہے ایسے نوٹس کو جو دھو کہ کھانے کی وجہ سے لکھا گیا ہے محض فضول اور منسوخ کی طرح سمجھے گی۔ اب ہم کچہری کی کارروائی کو سلسلہ وار بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔ بھی احتمال رکھتے ہیں بلکہ زیادہ تر احتمال یہی ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں جھوٹ زیادہ ہے۔ پھر کیونکر دلی یقین سے ان قصوں کو واقعات صحیحہ مان لیا جائے ۔ لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات صرف قصوں کے رنگ میں نہیں ہیں بلکہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے خودان نشانوں کو پالیتے ہیں ۔ لہذا معائنہ اور مشاہدہ کی برکت سے ہم حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں ۔ سو اس کامل اور مقدس نبی کی کس قدرشان بزرگ ہے جس کی نبوت ہمیشہ طالبوں کو تازہ ثبوت دکھلاتی رہتی ہے ۔ اور ہم متواتر نشانوں کی برکت سے اس کمال سے مراتب عالیہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ گویا خدا تعالی کو ہم آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں ۔ پس مذہب اسے کہتے ہیں اور سچا نبی اس کا نام ہے جس کی سچائی کی ہمیشہ تازہ بہار نظر آئے ۔ محض قصوں پر جن میں ہزاروں طرح کی کمی بیشی کا امکان ہے بھروسہ کر لینا عقلمندوں کا کام نہیں ہے ۔ دنیا میں صد ہا لوگ خدا بنائے