کتاب البریہ — Page 153
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۳ ہمیں افسوس ہے کہ ان نا پاک اور دل آزار کلمات کو محض اس وجہ سے ہمیں حکام پر ظاہر کرنا پڑا کہ ڈاکٹر کلارک نے بعض معمولی اور نرم الفاظ ہمارے عدالت میں پیش کر کے یہ شکایت کی کہ ایسے سخت الفاظ سے ہم پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اور چونکہ صاحب مجسٹریٹ ضلع کو معلوم نہیں تھا کہ حضرات پادری صاحبان نے سخت الفاظ کے استعمال میں کہاں تک نوبت پہنچائی ہوئی ہے اور بباعث نہ لئے جانے ہمارے جواب کے پادری صاحبوں کے سخت الفاظ پر انہیں کچھ بھی اطلاع نہ تھی اس لئے ان کو یہ دھو کہ لگا کہ گویا ہم نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ گویا در حقیقت ہماری طرف سے سخت الفاظ استعمال میں آتے ہیں۔ اور اسی دھو کہ کی بنا پر ان کو نوٹس بھی لکھنا پڑا۔ اور اگر ہمارے جواب تک نوبت پہنچتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ صاحب بہادر پادری صاحبوں کے الفاظ کے مقابل پر ہمارے الفاظ کو سخت قرار دیتے۔ کیونکہ سختی نرمی ایک ایسی شے ہے کہ اس کی حقیقت مقابلہ سے ہی معلوم ہوتی ہے۔ خاص کر مذ ہبی بحثوں کی کتابوں میں تو کسی شخص کی تختی یا نرمی کی نسبت رائے (۱۲۶) قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے مقابل کی کتاب نہ دیکھی جائے۔ اگر صرف مخالف رات کو رد کرنے کا نام سختی ہو تو میں خیال نہیں کر سکتا کہ دنیا میں کوئی مذہبی مباحثات کی کتاب ایسی پائی جائے جو اس قسم کی سختی سے خالی ہو۔ بلکہ تو ہین اور ختی تو یہ ہے کہ کسی قوم کے مقتدا کو نہایت درجہ کی بے عزتی کے ساتھ یاد کرنا اور ناپاک افعال اور رذیل اخلاق کی تہمتیں اس پر لگانا۔ سو یہ طریق حضرات پادری صاحبان اور آریہ صاحبوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور بے اصل تہمتیں سراسر افترا کے طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں جو کسی مستند اور مسلم الثبوت اسلامی کتاب پر مبنی نہیں ہیں۔ اس سے جس قدر مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے؟! خیالات اور ہم لوگ پادری صاحبوں کے مقابل پر کیا بسختی کر سکتے ہیں کیونکہ جس طرح ان کا فرض