کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 630

کتاب البریہ — Page 152

۱۲۵ روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۱ ۱۵۲ كتاب البرية محمد صاحب نے زن پرستی ۔ قبر پرستی ۔ مردہ پرستی ۔ لونڈی پرستی ۔ اور ظلم پرستی کی تخم ریزی کر کے اکثر ملکوں میں تمام جہان کی برائیوں اور بدفعلیوں کا ایک پژاوہ بھڑکا دیا تھا۔ ۹۲ کل اہل اسلام کے بزرگوں وغیر ہم کو زبان پر توحید اور عمل میں زن پرست و زانی کہا ہے۔ ۹۷،۹۴ محمد صاحب نے اپنی لونڈی کے ساتھ زنا کیا پھر معافی ۔ پھر معافی مانگی۔ شہوت پرست تھے۔ عبادت الہی کو چھوڑ کر عورتوں کا حکم بجالاتے تھے۔ ۱۰۳ محمد صاحب زن مرید تھے۔ قرآن میں شیطانی راہ کی باتیں بھی ہیں۔ یہ نمونہ ہے اس درشت اور قابل تاسف زبان کا جو ہماری ست بچن جیسی کتاب کے مقابل پر ہمارے ہادی و مقتدا سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں استعمال کی گئی ہے۔ یہ وہ سخت الفاظ اور توہین اور تحقیر کے کلمات ہیں جو پادری صاحبان اور آریہ صاحبان نے اپنی کتابوں میں ہمارے سید و مولی جناب سید المرسلین و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کئے ہیں۔ اور ان کتابوں میں سے اکثر کتا بیں کئی دفعہ چھپ کر پنجاب اور ہندوستان میں شائع کی گئی ہیں۔ اور ہمیشہ مشن سکولوں کے طالب العلموں کو پڑھنے کے لئے دی جاتی ہیں ۔ اور کوچوں اور بازاروں میں سنائی جاتی ہیں ۔ اور عیسائی عورتیں جو وعظ پر مقرر ہیں مسلمانوں کے گھروں میں لے جاتی ہیں۔ ہم بیان نہیں کر سکتے کہ ہم نے ان تمام الفاظ کو کس کراہت اور درد دل اور لرزاں بدن سے لکھا ہے۔ اگر عدالت کی کارروائی ہم کو ان کے لکھنے کے لئے مجبور نہ کرتی اور ڈاکٹر کلارک صاحب ہم پر یہ الزام دروغ نہ لگاتے کہ گویا ہم عیسائیوں کے مقابل پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں تو یہ زہر آمیز کلمات جو سلطان الصادقین اور خیرالمرسلین کی شان میں لکھے گئے ہیں اور ہمیشہ عیسائی اخباروں میں لکھے جاتے ہیں ہم ہرگز اس کتاب میں نہ لکھتے ۔