کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 630

کتاب البریہ — Page 143

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۴۳ دلانے والا۔ اس کی ابتدا او منتہا شہوت پرستی ۔ ۴۲۔ معراج کا قصہ جھوٹا۔ لغو کر کی بات ۶۶۔ (جمعہ کو چونکہ ایرانی نجوم میں زہرہ کہتے ہیں اس لئے روز جمعہ کو ایک بد کا رطوائف کہا ہے اور مسلمانوں کا تعظیم جمعہ کرنا گویا اس بد کار طوائف کیلئے وحشیانہ جوش جنبانی ہے۔۱۷۵) قرآن شریف و احادیث کی نسبت ۔ اس کی بنا فاسد ہے ۔ ۲۹ ۔ قرآن علم و حکمت عام عقل کے برخلاف علمی نتائج میں بدی پیدا کر نیوالا ۔ ۴۲۔ ناسزاوار تعظیم ۔ اس کی تعلیمات نہایت معیوب اکثر غلط۔ اس کے پڑھتے ہی سخت مزاج اور نفسانی ہو جانا ۔ ۴۳ ۔ قرآنی بہشت کی تعلیم عیاشوں اور بد کرداروں کو خوش کرنا ہے۔ ۴۴۔ اس کی تعلیم زشت - ۴۵ ۔ اس کی تعلیم تاریک گمراہی پھیلانے والی۔ لوگوں کو کینہ ور اور بے رحم بنانے والی۔ حرص کینہ شہوت کو جائز رکھنے والی۔ ۴۹۔۵۰۔ قرآن احقاق حق سے سرا پا شرمناک ہے۔اے۔ قرآن کے خاتمہ بالخیر ہونے سے ملک ایشیا اس ہیضہ سے نجات پا تا ۲۷۳۔ قرآنی جنت - نفسانی اور جسمانی بلکہ عشرت کدہ حیوانی عقل کے خلاف۔ دور از انصاف۔ بعید از قیاس روحانیت | کی ستیا ناس کرنے والی۔ شیطان کی ماوا مجا۔۳۱۶۔ تکذیب براہین احمدیہ مصنفہ پنڈت لیکھر ام آریہ مسافر مطبوعہ چشمہ نورا مرتسر۱۸۹۰ء اللہ تعالیٰ کی نسبت۔ صفحہ ۳۶۔ بے علم ۔ نا فہم ۔ دھوکہ باز ۔ فریبی ۔ حیلہ پرداز ۔ (۱۱۲) داؤ کھیلنے والا ۔ بیوقوف۔ ۳۷ ۔ کمبہ کرن کی نیند سے بیدار نہ ہونے والا ۔ قرآنی خدا عالم غیب نہیں وہ محمد شاہ رنگیلے کی طرح یا واجد علی شاہ کی طرح زچہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ علم مباحثہ سے نا واقف زودرنج تعصب والا ہے۔ ۳۸۔ اس سے شیطان زور آور ہے۔ ۳۹ ۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو مکر و فریب سے یا اتفاق وقت سے سلطنت کو پہنچ گیا مگر علم و عقل سے عاری۔ ناواقفوں سادہ لوحوں یا اپنے جیسے پر اس کی حکومت۔ بہادری کا اس میں نشان نہیں ۔۔۔ خدائی کرنے کا گیان نہیں ۔ دانا نہیں ۔۔۔ معاملات ملکی کا تجربہ کار نہیں ۔۴۲ ۔ جن فرشتوں