کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 630

کتاب البریہ — Page 117

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۱۷ ایک مقبول الہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔ كتاب البرية پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اڑتے ہوئے دکھائی دیئے۔ (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا ) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں ( مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں ) شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔ امید کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ نَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا۔ قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمداً و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔ فاعفوا واصفحوا ان الله يحب المحسنين۔ میں ہوں حضور کا مجرم دستخط بزرگ) راولپنڈی ۲۹ اکتوبرک یہ خط بزرگ موصوف کا ہے جس کو ہم نے بعض الفاظ تدلل و انکسار کے حذف کر کے چھاپ دیا ۹۲ ہے اس خط میں بزرگ موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کو اس عاجز کی قبولیت دعا کے بارے میں الہام ہوا تھا۔ اور نیز اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خارجاً بھی آثار خوف دیکھے جن کی وجہ سے زیادہ تر دہشت ان کے دل پر طاری ہوئی اور قبولیت دعا کے نشان دکھائی دیئے۔ پس اس جگہ یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ ڈپٹی آتھم کی نسبت جو کچھ شرطی طور پر بیان کیا گیا تھا وہ بیان بالکل اس بیان سے مشابہ ہے جو اس بزرگ کی نسبت کیا گیا یعنی جیسا کہ اس عذابی پیشگوئی میں ایک شرط رکھی گئی تھی ویسا ہی اس میں بھی ایک شرط تھی اور ان دونوں شخصوں میں فرق یہ ہے کہ یہ بزرگ ایمانی روشنی اپنے اندر رکھتا تھا اور بیچ سے محبت کر نیکی سعادت اس کے جوہر میں تھی لہذا اس نے آثار خوف دیکھ کر اور خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اس کو پوشیدہ کرنا نہ چاہا اور نہایت تذلل اور انکسار سے جہاں تک کہ انسان تذلیل کر سکتا ہے تمام حالات صفائی سے لکھ کر اپنا معذرت نامہ بھیج دیا۔ مگر آتھم چونکہ نور ایمان اور جو هم چونکه نور ایمان اور جو ہر سعادت سے بے بہرہ تھا اس لئے باوجود سخت خوفناک اور ہراساں ہونے کے بھی یہ سعادت اس کو میسر نہ آئی اور اطه : ۱۱۶