کتاب البریہ — Page 118
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۱۸ كتاب البرية خوف کا اقرار کر کے پھر افترا کے طور پر اس خوف کی وجہ ان ہمارے فرضی حملوں کو ٹھہرایا جوصرف اسی کے دل کا منصوبہ تھا حالانکہ اس نے پندرہ مہینے تک یعنی میعاد کے اندر بھی ظاہر نہ کیا کہ ہم نے یا ہماری جماعت میں سے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ اگر ہماری طرف سے اس کے قتل کرنے کے لئے حملہ ہوتا تو حق یہ تھا کہ میعاد کے اندرای وقت جب حملہ ہوا تھا شور مچاتا اور حکام کو خبر دیتا۔ اگر ہماری طرف سے ایک بھی حملہ ہوتا تو کیا کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت عیسائیوں میں شور نہ پڑ جاتا۔ پھر جس حالت میں آتھم نے میعاد گذرنے کے بعد یہ بیان کیا کہ میرے قتل کرنے کے لئے مختلف وقتوں اور مقاموں میں تین حملے کئے گئے تھے یعنی ایک امرتسر میں اور ایک لدھیانہ میں اور ایک فیروز پور میں تو کیا کوئی منصف سمجھ سکتا ہے کہ باوجود ان تینوں حملوں کے جو خون کرنے کیلئے تھے آتھم اور اس کا داماد جوا کسٹرا اسٹنٹ تھا اور اس کی تمام جماعت چپ بیٹھی رہتی اور حملہ کر نیوالوں کا کوئی بھی تدارک نہ کراتی اور کم سے کم اتنا بھی نہ کرتی کہ اخباروں میں چھپوا کر ایک شور ڈالدیتی اور اگر نہایت نرمی کرتی تو سرکار سے با ضابطہ میری ضمانت سنگین طلب کرواتی۔ کیا کوئی دل قبول کر لے گا کہ میری طرف سے تین حملے ہوں اور آتھم اور اس کی جماعت سب کے سب چپ رہیں بات تک باہر نہ نکلے ؟ کیا کوئی منظمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے خاص کر جس حالت میں میرے حملوں کا ثبوت میری پیشگوئیوں کی ساری قلعی کھولتا تھا اور عیسائیوں کو نمایاں فتح حاصل ہوتی تھی پس آتھم نے یہ جھوٹے الزام اسی لئے لگائے کہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر اس کا خائف اور ہراساں ہونا ہر ایک پر کھل گیا تھا وہ مارے خوف کے مرا جا تا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آثار خوف اس پر اس طرح ظاہر ہوئے ہوں جیسا کہ یونس کی قوم پر ظاہر ہوئے تھے۔ غرض اس نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھایا مگر دنیا سے محبت کر کے گواہی کو پوشیدہ رکھا اور قسم نہ کھائی اور نالش نہ کرنے سے ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ضرور خدا تعالیٰ کے خوف اور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا۔ لہذا وہ اخفائے شہادت کے بعد دوسرے الہام کے موافق جلد تر فوت ہو گیا۔ بہر حال یہ مقدمہ کہ جو اس خوش قسمت اور نیک فطرت بزرگ کا مقدمہ ہے آتھم کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے اور اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو میں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔ اللهم احفــظــه مـن البلايا والآفات۔ اللهم اعصمه من المكروهات۔ اللهم ارحمه و انت خير الراحمین آمین ثم آمین ۔ الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں۔ ۲۰ نومبر ۱۸۹۷ء