کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 630

کتاب البریہ — Page 111

روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية روحانی نصرت کی افواج کی طرف اس الہام میں اشارہ کیا کہ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ آتِيكَ بَغْتَةً ۔ اور پھر ہمارے محفوظ رہنے اور بری ہونے کی بشارت دی۔ اور تم نے دیکھا کہ جیسا کہ جلسہ مہوتسو سے پہلے میں نے خدا سے الہام پا کر اشتہار شائع کیا تھا کہ میرا مضمون غالب رہے گا۔ خدا تعالیٰ نے وہی کیا اور فوق العادت قبولیت اس میں ڈال دی۔ چنانچہ اب تک ہزاروں انسان گواہی دے رہے ہیں کہ تمام مضمونوں میں وہی ایک مضمون ہے۔ اب سوچو کہ یہ کام کس نے کیا؟ کیا خدا نے یا کسی اور نے؟ یہ تو خدا تعالی کا قولی معجزہ تھا اور پھر فعلی معجزہ اس نے یہ دکھلایا کہ میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام مارا گیا۔ دیکھو یہ کیسانشان ہے کہ جو کروڑ ہا انسانوں میں شہرت پا کر آخر لاہور جیسے صدر مقام میں ہیبت ناک طور پر ظہور میں آیا۔ آتھم کا نشان بھی تمہاری آنکھ میں بہت صاف ہے کہ کیونکر اس نے اول شرط کے موافق ترساں ولرزاں ہو کر شرط سے فائدہ اٹھایا اور پھر کیونکر الہام کے مطابق اخفاء شہادت سے جلد تر پکڑا گیا اور فوت ہو گیا۔ اخبار چودھویں صدی والے بزرگ کی تو بہ علاوہ اور نشانوں کے یہ بھی ایک عظیم الشان نشان ہے جو حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک بزرگ نے جو ہر ایک طرح سے دنیا میں معزز اور رئیس اور اہل علم بھی ہیں اس عاجز کے حق میں ایک دلہ زار کلمہ یعنی مثنوی رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جو پر چہ چودھویں صدی ماہ جون ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے چون خدا خواهد که پرده کس درد میلش اندر طعنہ پا کاں برد سواس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی تھی کہ یا تو خدا تعالیٰ اس کو تو بہ اور پشیمانی بخشے اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے۔ سوخدا نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو تو فیق تو بہ عنایت فرمائی اور اس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس کے بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگی۔ سو اس نے ۸۵