کتاب البریہ — Page 98
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۸ کتاب البرية ہے اور نہ اس کی جناب میں یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو کسی قسم کا آرام پہنچانے کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ اپنے تئیں مصیبت میں ڈالے کیونکہ یہ بات قدرت تامہ اور نشان الوہیت اور جلال ازلی ابدی کے منافی ہے۔ اور اگر وہ اس قسم کی ذلت اور مصیبت اور محرومی اپنے لئے روار کھ سکتا ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ اپنی خدائی کسی دوسرے کو بطور ایثار ۷۳) دے کر آپ معطل اور بے کار بیٹھ جائے یا اپنی صفات کاملہ دوسرے کو عطا کر کے آپ ان صفات سے ہمیشہ کے لئے محروم رہے۔ سو ایسا خیال خدا تعالیٰ کی جناب میں بڑی گستاخی ہے اور میں قبول نہیں کر سکتا کہ کوئی خدا ترس منصف مزاج یہ ناقص حالتیں خدائے ذوالجلال کے لئے پسند کرے گا۔ ہاں بلا شبہ یہ صفت ایثار جس میں ناداری اور لا چاری اور ضعف اور محرومی شرط ہے ایک عاجز انسان کی نیک صفت ہے کہ باوجود یکہ دوسرے کو آرام پہنچا کر اپنے آرام کا سامان اس کے پاس باقی نہیں رہتا پھر بھی وہ اپنے پرسختی کر کے دوسرے کو آرام پہنچا دیتا ہے مگر ہم کیونکر تجویز کر سکتے ہیں کہ خدا پر بھی ایسی حالت رہ سکتی ہے کہ وہ ایک قسم کا کسی کو آرام پہنچا کر آپ اس آرام سے محروم رہ جائے۔ کیا اس کی شان کے یہ زیبا ہے کہ ایک شخص کو بطور ایثار کے قادر بنادے اور آپ نا تواں رہ جائے یا آپ نعوذ باللہ جاہل رہ جائے اور دوسرے کو بطور ایثار کے عالم الغیب بناوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ایثار کی صفت میں یہ ضروری شرط ہے کہ ایثار کنندہ اپنے لئے ایک محرومی کی حالت پر راضی ہو کر دوسرے کو اپنے اس نصیب سے بہرہ یاب کرے اور اگر اپنے لئے محرومی کی حالت پیدا نہ ہو اور دوسرے کو ہم فائدہ پہنچاویں تو وہ ایثار نہیں ہوسکتا۔ مثلاً ہمارے قبضہ میں بہت سی روٹیاں ہیں جن کے ہم مالک ہیں اور ہم نے ان ہزاروں روٹیوں میں سے ایک روٹی کسی فقیر کو دے دی تو اس کا نام ایثار نہیں ہوگا۔ فرض کرو کہ اگر سر فلپ سڈنی کے پاس بہت سا پانی ہوتا یا با سانی اس کو پیدا کر سکتا اور وہ اس میں سے ایک پیالہ اس سپاہی کو بھی دے دیتا جو اس کے پاس زخمی نوٹ اس کو انگریزی میں سیلف سکری فائس“ کہتے ہیں ۔ منہ