کتاب البریہ — Page 97
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۷ كتاب البرية کی خواہش اور ارادہ کے موافق چل رہا ہے۔ جس سے ہم اپنی قوت اور تصرف سے کسی طرح باہر نہیں ہو سکتے اور جو ہماری بناوٹ سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر خدا کے ہاتھ سے ایسا ہی قائم ہو گیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ اعلیٰ کی بقا اور عافیت کے لئے ادنی کو قربان کیا گیا ہے۔ پس وہ خدا (۴۷۲ کا فعل جو اس وقت سے جاری ہے جب سے دنیا کی بنیاد پڑی ہے ہمیں سکھلاتا اور یاد دلاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ جو مخلوق اس کی نظر میں بہت پسند اور مقبول ہے دوسری مخلوق کو اس کی خدمت میں لگاوے اور ادنی کو اعلیٰ کی نجات کے لئے تکلیف میں ڈالے یا ہلاک کرے۔سومطالبہ تو اس بات کا تھا کہ کیا خدا نے کبھی ایسا کیا کہ ادنی کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا ۔ لیکن ظاہر ہے کہ خدا کے قانون قدرت میں اس کی نظیر نہیں۔ دیکھو ہم پیالہ پانی کاپی کر کروڑہا کیڑوں کی ہلاکت کا موجب ہوتے ہیں۔ پس کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ ایک کیڑے کے لئے خدا تعالیٰ نے کروڑ ہا انسانوں کو ہلاک کیا ہو۔ دیکھو ایک انسان اپنی زندگی میں جس قدر پانی پیتا اور اس ذریعہ سے بے شمار کیٹروں کو ہلاک کرتا اور یا جو دوسرے مختلف حیوانوں اور کیڑوں اور مکھیوں اور جوکوں اور خوردنی جانداروں کو ہلاک کرتا ہے کیا کوئی اس کا شمار کر سکتا ہے؟ پس کیا اب تک سمجھ نہیں آ سکتا کہ خدا کا قانون جس پر چلنے کے لئے انسانی زندگی مجبور ہے قدیم سے یہی ہے کہ ادنی اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔ ہاں جو مثال پیش کی گئی ہے گو اس کو خدا کے قانون قدرت سے تعلق نہیں مگر انسان کی صفت ایثار میں اس کو داخل کر سکتے ہیں۔ انسان چونکہ ناقص اور ثواب حاصل کرنے کے لئے اعمال صالحہ کا محتاج ہے اس لئے کبھی وہ تواضع اور تذلیل کے طور پر اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم کر لیتا ہے اور آپ ایک حفظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حفظ پہنچا تا ہے تا اس طرح پر اپنے خدا کو راضی کرے۔ اور اس کی اس صفت کا نام عربی میں ایثار ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صفت گو عاجز انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے لیکن خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی کیونکہ نہ تو وہ تواضع اور تذلل کے راہ سے کسی ترقی کا محتاج