کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 630

کتاب البریہ — Page 96

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۶ کتاب البرية نظام تمدن کے لئے تمام حیوانات ایک قربانی کا حکم رکھتے ہیں۔ پانی کے کیٹروں سے لے کر شہد کی مکھیوں اور ریشم کے کیڑوں اور تمام حیوانات بکری گائے وغیرہ تک جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ سب انسانی زندگی کے خادم اور نوع انسان کی راہ میں فدیہ معلوم ہوتے ہیں۔ ایک ہمارے بدن کی پھنسی کے لئے بسا اوقات سو جوک جان دیتی ہے تا ہم اس پھنسی سے نجات پاویں۔ ہر روز کروڑ ہا بکری اور بیل اور مچھلیاں وغیرہ ہمارے لئے اپنی جان دیتی ہیں۔ تب ہماری بقاء صحت کے مناسب حال غذا میسر ہوتی ہے۔ پس اس تمام سلسلہ پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اعلیٰ کے لئے ادنی کو فدیہ مقرر کیا ہے۔ لیکن اعلیٰ کا ادنی کے لئے قربان ہونا اس کی نظیر خدا کے قانون قدرت میں ہمیں نہیں ملتی۔ پادری لوگ اس اعتراض سے بڑے گھبراتے ہیں اور کوئی جواب بن نہیں پڑتا۔ آخر بعض بے ہودہ قصوں کہانیوں پر ہاتھ مار کر بعض ان میں سے یہ جواب دیتے ہیں کہ بعض وقت بڑے بڑے افسروں نے ادنی ادنیٰ لوگوں کے لئے جو اُن کے ماتحت تھے جان دی ہے۔ چنانچہ سر فلپ سڈنی ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں قلعہ ذلفن ملک ہالینڈ کے محاصرہ میں جب زخمی ہوا تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدت پیاس کے وقت جب اس کے لئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کم یاب تھا مہیا کیا گیا تو اس کے پاس ایک اور زخمی سپاہی تھا جو پیاسا تھاوہ نہایت حرص کے ساتھ سڈنی کی طرف دیکھنے لگا۔ سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر وہ پیالہ پانی کا خود نہ پیا بلکہ بطور ایثار اس سپاہی کو دے دیا یہ کہہ کر کہ ” تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے ۔ یہ جوانمردی اور صفت ایثار کا ایک نمونہ ہے جو سڈنی سے ظہور میں آیا۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایک بڑے انسان نے چھوٹے کے لئے جان دی ۔ لیکن یا در ہے کہ اس قصہ میں ہمارے سوال کا جواب نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ اعتراض تھا کہ خدا کا قانون قدرت جو نظام شمسی کی طرح خدا نوٹ ۔ صریح معلوم ہوتا ہے کہ سڈنی نے دو خیال کی وجہ سے سپاہی کو ہی اپنے سے بڑا سمجھا۔ ایک یہ کہ سڈنی مرنے پر تھا اور سپاہی زندہ رہ کر کام دے سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ سپاہی ایک لڑنے والا بہادر تھا۔ اسی لئے سڈنی نے کہا کہ تیری ضرورت زیادہ ہے۔ منہ