کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 630

کتاب البریہ — Page 94

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۴ کتاب البرية اشارہ ہے ۔ مگر اس سے اور بھی ان کی نادانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ عبرانی لغت سے ثابت ہے کہ گوالو ہیم کا لفظ بظا ہر جمع ہے مگر ہر ایک جگہ واحد کے معنے دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ زبان عربی اور عبرانی میں یہ محاورہ شائع ہے کہ بعض وقت لفظ واحد ہوتا ہے اور معنے جمع کے دیتا ہے جیسا کہ سامر اور دجال کا لفظ اور بعض وقت ایک لفظ جمع کے صیغہ پر ہوتا ہے اور معنے واحد کے دیتا ہے اور عبرانی جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ لفظ الوہیم بھی ان ہی الفاظ میں سے ہے جو جمع کی صورت میں ہیں اور دراصل واحد کے معنے رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ توریت میں جس جگہ آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے آیا ہے۔ اور یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ بعض جگہ یہی لفظ فرشتہ کے لئے اور بعض جگہ قاضی کے لئے اور بعض جگہ حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے۔ جیسا کہ قاضیوں کی کتاب باب سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ۱۳ منو حائمون کے باپ نے خداوند کا ایک فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم یقیناً مر جائیں گے کیونکہ ہم نے الوہیم کو دیکھا۔ اس جگہ عبرانی میں لفظ الوہیم ہے اور معنے اس کے فرشتہ کئے جاتے ہیں اور خروج باب میں الوہیم کے معنے قاضی کئے گئے ہیں اور خروج باب سے میں موسیٰ کو الو ہیم قرار دے کر کہا ہے کہ دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے ایک الوہیم بنایا ہے“۔ اور استثنا باب میں یہ عبارت ہے ۔ اور اس نے الو ہا کو چھوڑ دیا جس نے اسے پیدا کیا تھا۔ دیکھو اس جگہ لفظ الوہا ہے الوہیم نہیں ہے۔ اور ایسا ہی زبور میں لفظ الوہا آیا ہے۔ اور اسی طرح ان کتابوں میں لفظ الو ہا اور الوہیم ایک دوسرے کی جگہ آ گیا ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ دونوں جگہ میں واحد مراد ہے نہ جمع۔ ایسا ہی یسعیا باب ہے میں الوہیم آیا ہے۔ اور پھر آیت آٹھ میں الوہا (۷۰) ہے۔ پس واضح ہو کہ اصل مدعا جمع کا صیغہ لانے سے خدا کی طاقت اور قدرت کو ظاہر کرنا ہے اور یہ زبانوں کے محاورات ہیں جیسا کہ انگریزی میں ایک انسان کو یو یعنی تم کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے لئے باوجود تثلیث کے عقیدہ کے ہمیشہ داؤ یعنی تو کا لفظ لاتے ہیں۔ حملا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۱۳/۲۲ ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے'۲۲٫۹‘ ہونا چاہیے ۔ (ناشر )