کتاب البریہ — Page 91
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۹۱ کتاب البرية کیا ثبوت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسی باتوں کے ثبوت کے لئے جو کہ ہمارے زمانہ سے پہلے یا ہماری نظروں سے دور واقع ہوئی ہیں صرف سندیں ذریعہ ہیں۔ اور اگر ان سندوں کا انکار کیا جائے تو تمام تاریخی حالات قابل شک ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ معجزات واقعی طور پر بچے تھے یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر نبی اسلام نے (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہایت سخت لعنت کی ہے کہ جو جھوٹے طور پر آپ کی طرف معجزات منسوب کریں بلکہ صاف طور پر کہا ہے کہ جو میرے پر جھوٹ بولے اس کی سزا جہنم ہے۔ پس یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ ایسی سخت ممانعت کے بعد اس قدر جھوٹے معجزات بنائے جاتے۔ پھر وہی مؤلف لکھتا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر معزز گواہیاں اور سندیں نبئی اسلام کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں ایک عیسائی کی قدرت نہیں کہ ایسی گواہیاں یسوع کے معجزات کے ثبوت میں عہد جدید سے پیش کر سکے۔ اور اس سے زیادہ یا اس سے بہتر سندیں لا سکے۔ غرض فاضل عیسائی نے کسی قدر انصاف سے کام لے کر یہ تحریر کیا ہے مگر پھر بھی اسلام کے فضائل اور اُس کی سچائی کے ثبوت بیان کرنے کے لئے اسی قدر نہیں ہے جو بیان کیا گیا کیونکہ قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کانشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کے لئے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم (۶۷) کئے اور قرآن میں وہ انواع و اقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر معجزہ کی حد تک پہنچ گیا۔ اور ہمیشہ کے لئے بشارت دی کہ اس دین کی کامل طور پر پیروی کرنے والے ہمیشہ آسمانی نشان پاتے رہیں گے چنانچہ ایساہی ہوا۔ اور ہم یقینی او قطعی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سید و مولا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے با خدا لوگ ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا کر ان کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ جیسا کہ سید عبد القادر جیلانی