کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 630

کتاب البریہ — Page 77

روحانی خزائن جلد ۱۳ 22 اور منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ جس فدیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ اونی کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو مارا جائے ۔ ہمارے سامنے خدا کا قانون قدرت ہے اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ادنی اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں۔ چنانچہ جس قدر دنیا میں جانور ہیں یہاں تک کہ پانی کے کیڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف المخلوقات ہے کام میں آرہے ہیں ۔ پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے مخالف ہے جوصاف صاف نظر آ رہا ہے اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے اس کے بچانے کے لئے ادنی کو اس اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے انسان کی جان بچانے کے لئے کروڑ ہا حیوانوں کو بطور فدیہ کے دیا ہے۔ اور ہم تمام انسان بھی فطرتا ایسا ہی کرنے کی طرف راغب ہیں تو پھر خود سوچ لو کہ عیسائیوں کا فدیہ خدا کے قانون قدرت سے کس قدر دور پڑا ہوا ہے۔ ایک اور اعتراض ہے جو ہم نے کیا تھا اور وہ یہ ہے کہ یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسی گناہ سے پاک ہے۔ حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔ عیسائی خود مانتے ہیں کہ یسوع نے اپنا تمام گوشت و پوست اپنی والدہ سے پایا تھا اور وہ گناہ سے پاک نہ تھی ۔اور نیز عیسائیوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہر ایک در داور دکھ گناہ کا پھل ہے اور کچھ شک نہیں کہ یسوع (۵۴) بھوکا بھی ہوتا تھا اور پیاسا بھی اور بچپن میں قانون قدرت کے موافق خسرہ بھی اس کو نکالا ہو گا اور چیچک بھی اور دانتوں کے نکلنے کے دکھ بھی اٹھائے ہوں گے اور موسموں کے تپوں میں بھی گرفتار ہوتا ہوگا اور بموجب اصول عیسائیوں کے یہ سب گناہ کے پھل ہیں ۔ پھر کیونکر اس کو پاک فدیہ سمجھا گیا۔ علاوہ اس کے جبکہ روح القدس کا تعلق صرف اسی حالت میں بموجب اصول عیسائیوں کے ہو سکتا تھا کہ جب کوئی شخص ہر ایک طرح سے گناہ سے پاک ہو تو پھر یسوع جو بقول ان کے موروثی گناہ سے پاک نہیں تھا اور نہ گناہوں کے پھل سے بچ سکا اس