کتاب البریہ — Page 76
24 روحانی خزائن جلد ۱۳ جو عیسائیوں کیلئے غور کرنے کے لائق تھا۔ کیا ایسی کتابیں قابل اعتماد ہیں جن میں اس قدر جھوٹ ہیں؟!! ایک اور اعتراض متی وغیرہ انجیلوں پر ہے جو ہم نے بار بار پیش کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تحریرات کا الہامی ہونا ہر گز ثابت نہیں۔ کیونکہ ان کے لکھنے والوں نے کسی جگہ یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ کتا ہیں الہام سے لکھی گئی ہیں۔ بلکہ بعض نے ان میں سے صاف اقرار بھی کر دیا ہے کہ یہ کتابیں محض انسانی تالیف ہیں۔ سچ ہے کہ قرآن شریف میں انجیل کے نام پر ایک کتاب حضرت عیسی پر نازل ہونے کی تصدیق ہے مگر قرآن شریف میں ہر گز یہ نہیں ہے کہ کوئی الہام متی یا یوحنا وغیرہ کو بھی ہوا ہے۔ اور وہ الہام انجیل کہلاتا ہے۔ اس لئے مسلمان لوگ کسی طرح ان کتابوں کو خدا تعالیٰ کی کتابیں تسلیم نہیں کر سکتے۔ ان ہی انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح خدا تعالیٰ سے الہام پاتے تھے اور اپنے الہامات کا نم انجیل رکھتے تھے۔ پس عیسائیوں پر لازم ہے کہ وہ انجیل پیش کریں تعجب کہ یہ لوگ اس کا نام بھی نہیں لیتے۔ پس وجہ یہی ہے کہ اس کو یہ لوگ کھو بیٹھے ہیں۔ منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ عیسائی اپنے اصول کے موافق اعمال صالحہ کو کچھ چیز نہیں سمجھتے اور ان کی نظر میں یسوع کا کفارہ نجات پانے کے لئے ۵۳) ایک کافی تدبیر ہے لیکن علاوہ اس بات کے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یسوع کا کفارہ نہ تو عیسائیوں کو بدی سے بچا سکا اور نہ یہ بات صحیح ہے کہ کفارہ کی وجہ سے ہر ایک بدی ان کو حلال ہوگئی ۔ ایک اور امر منصفوں کے لئے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ عقلی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک کام بلاشبہ اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتے ہیں جو نیکو کارکو وہ تا شیر نجات کا پھل بخشتی ہے کیونکہ عیسائیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ بدی اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا مرتکب ہمیشہ کے جہنم میں جاتا ہے۔ تو اس صورت میں قانون قدرت کے اس پہلو پر نظر ڈال کر یہ دوسرا پہلو بھی ماننا پڑتا ہے کہ علی ھذا القیاس نیکی بھی اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا بجالانے والا وارث نجات بن سکتا ہے۔