کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 630

کتاب البریہ — Page 75

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۷۵ ایک اور اعتراض میں نے اپنی کتابوں میں کیا تھا جو پادریوں کی انجیلوں متی وغیرہ پر وارد ہوتا ہے۔ جس کے جواب سے پادری صاحبان عاجز ہیں اور وہ یہ ہے کہ ان کی انجیلیں اس وجہ سے بھی قابل اعتبار نہیں کہ ان میں جھوٹ سے بہت کام لیا گیا ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ یسوع نے اتنے کام کئے ہیں کہ اگر وہ لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔ پس سوچو کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ جو کام تین برس کے زمانہ میں سما گئے اور مدت قلیلہ میں محدود ہو گئے کیا وجہ کہ وہ کتابوں میں سمانہ سکتے۔ پھر ان ہی انجیلوں میں یسوع کا قول لکھا ہے کہ ” مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں“۔ حالانکہ ان ہی کتابوں سے ثابت ہے کہ یسوع کی ماں کا ایک گھر تھا جس میں وہ رہتا تھا۔ اور سر رکھنے کے کیا معنے گزارہ کے موافق اس کے لئے مکان موجود تھا۔ اور پھر انجیلوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ یسوع ایک مالدار آدمی تھا ہر وقت روپیہ کی تحصیلی ساتھ رہتی تھی جس میں قیاس کیا جاتا ہے کہ دو دو تین تین ہزار روپیہ تک یسوع کے پاس جمع رہتا تھا۔ اور یسوع کے اس خزانہ کا یہودا اسکر یولی خزانچی تھا وہ نالائق اس روپیہ میں سے کچھ چورا بھی لیا کرتا تھا۔ اور انجیلوں سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یسوع نے اس روپیہ میں سے (۵۲) کبھی کچھ لِلہ بھی دیا۔ پس کیا وجہ کہ باوجود اس قدر روپیہ کے جس سے ایک امیرانہ مکان بن سکتا تھا پھر یسوع کہتا تھا کہ ”مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ پھر تیسرا جھوٹ انجیلوں میں یہ ہے کہ مثلامتی اپنی کتاب کے دوسرے باب میں لکھتا ہے کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ یعنی یسوع ناصری کہلائے گا حالانکہ نبیوں کی کتابوں میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ۔ پھر چو تھا جھوٹ یہ ہے کہ وہ ایک پیشگوئی کو خواہ نخواہ یسوع پر جمانے کے لئے ناصرہ کے معنے شاخ کرتا ہے۔ حالانکہ عبرانی میں ناصرہ سرسبز اور خوش منظر مکان کو کہتے ہیں نہ کہ شاخ کو ۔ اسی لفظ کو عربی میں ناضرہ کہتے ہیں۔ ایسے ہی اور بہت جھوٹ ہیں جو خدا کی کلام میں ہرگز نہیں ہو سکتے یہ ایک ایسا امر تھا نوٹ:۔ متی نے اپنی انجیل کے باب پانچ میں ایک نہایت مکر وہ جھوٹ بولا ہے یعنی یہ کہ گویا پہلی کتابوں میں یہ حکم لکھا ہوا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت۔ حالانکہ یہ حکم کسی پہلی کتاب میں موجود نہیں اور پھر دوسرا جھوٹ یہ کہ اس قول کو یسوع کی طرف نسبت کیا ہے۔ منہ