کتاب البریہ — Page 72
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۷۲ كتاب البرية مگر جب آرام دینے کا وقت آیا تو صرف روح کو آرام دیا۔ میں سوچتا ہوں کہ کیونکر یہ لوگ ایسی ایسی فاش غلطیوں پر خوش ہو جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن میں صرف جسمانی بہشت کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو تعصب نے دیوانہ کر دیا۔ قرآن تو بہشتیوں کے لئے جابجا روحانی لذات کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ وُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ نَاضِرَةٌ إِلى رَبَّهَا نَاظِرَةٌ لا یعنی قیامت کو وہ منہ تر و تازہ ہوں گے جو اپنے رب کو دیکھتے ہوں گے۔ کیا یہ جسمانی لذات کا ذکر ہے یا روحانی کا افسوس کہ ان لوگوں کے کیسے دل سخت ہو گئے اور کیونکر انہوں نے سچائی اور انصاف اور حق پسندی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دیا۔ اے نادانو! اور شریعت حقہ کے اسرار سے بے خبر و! کیا ضرور نہ تھا کہ خدا قیامت کے دن انسان کی دنیوی زندگی کے دونوں سلسلہ جسمانی اور روحانی کی رعایت کر کے اس کو جزا اور سزا دیتا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ انسان اس مسافر خانہ میں آکر دونوں طور پر اعمال بجالا تا اور اپنے تئیں دونوں قسم کی مشقت میں ڈالتا ہے۔ ماسوا اس کے دنیا کی تمام الہامی کتابوں میں کم وبیش یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ بہشت اور دوزخ میں جسمانی طور پر بھی لذات اور عقوبات ہوں گی۔ چنانچہ خو مسیح نے بھی کئی جگہ انجیل میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرات پادری صاحبان کیوں بہشت کی جسمانی لذات سے منکر ہیں جب کہ با قرار عیسائیاں بہشتیوں کو جسم ملے گا جو ادراک اور شعور رکھتا ہوگا تو پھر وہ جسم دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا راحت میں ہوگا یا عقوبت میں ۔ پس بہر حال جسمانی راحت اور عذاب دونوں کو ماننا پڑا۔ ہم نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خدا تعالیٰ کا عدل بغیر کفارہ کے کیونکر پورا ہو بالکل مہمل ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع باعتبارا اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا۔ مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق تمام جہان کی لعنت ڈال کر اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ بھی پرواہ نہیں۔ یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو بہ افتح طریق اختیار کرلیا گیا۔ واویلا تو یہ تھا کہ کسی ا القيمة : ۲۴۲۳