کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 630

کتاب البریہ — Page 71

روحانی خزائن جلد ۱۳ اگر یہی جسم زندہ ہو جایا کرتا تو البتہ لوگ اس کو دیکھتے مگر با ایں ہمہ قرآن سے زندہ ہو جانا ثابت ہے لہذا یہ ماننا پڑتا ہے کہ کسی اور جسم کے ذریعہ سے جس کو ہم نہیں دیکھتے انسان کو زندہ کیا جاتا ہے اور غالبا وہ جسم اسی جسم کے لطائف جو ہر سے بنتا ہے تب جسم ملنے کے بعد انسانی قوی بحال ہوتے ہیں اور یہ دوسراجسم چونکہ پہلے جسم کی نسبت نہایت لطیف ہوتا ہے اس لئے اس پر ۲۸) مکاشفات کا دروازہ نہایت وسیع طور پر کھلتا ہے اور معاد کی تمام حقیقتیں جیسی کہ وہ ہیں كَمَا هِيَ ہی نظر آ جاتی ہیں۔ تب خطا کرنے والوں کو علاوہ جسمانی عذاب کے ایک حسرت کا عذاب بھی ہوتا ہے۔ غرض یہ اصول متفق علیہ اسلام میں ہے کہ قبر کا عذاب یا آرام بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں۔ کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے روحانی قومی بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔ عیسائی اس بات کے تو قائل ہیں کہ قبر کا عذاب جسم کے ذریعہ سے ہوتا ہے مگر بہشتی آرام کے لئے جسم کو شریک نہیں کرتے ۔ سو یہ سراسر ان کی غلطی ہے اور وہ غلط اور ناقص تعلیم جو انجیل کی طرف منسوب کی جاتی ہے وہی ان فاسد خیالات کی موجب ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں انسان نیکی کرنے کے لئے دوہری مصیبت اٹھاتا ہے یعنی وہ اپنے روح اور جسم دونوں کو خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے مشقت میں ڈالتا اور محنت سے ان دونوں سے کام لیتا ہے ایسا ہی وہ بدی کرنے کے وقت بھی دو ہری نافرمانی کرتا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی روح اور جسم دونوں کو نا فرمانی کی راہ میں لگاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے عدل نے تقاضا کیا کہ اس عالم میں بھی دو ہری راحت یا دوہرا رنج اس کو ملے اور روحانی جسمانی دونوں طور پر اپنے اعمال کا بدلہ پاوے۔ مگر افسوس کہ عیسائی دوزخ کے عذاب کے بارے میں تو اس عادلانہ اصول پر کار بند ہوئے لیکن بہشتی جزا کے بارے میں اس اصول کو بھلا دیا گویا ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کو عذاب دینا زیادہ پیارا ہے کہ عذاب تو روح اور جسم دونوں کو دیا