کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 630

کتاب البریہ — Page 69

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۹ غرض جبکہ خدا بننے کا یہ قاعدہ ہے کہ کوئی بے گناہ ہو تو عقل تجویز کرتی ہے کہ جس طرح یسوع کے لئے یہ اتفاق پیش آگیا کہ بقول عیسائیاں وہ ایک مدت تک گناہ نہ کر سکا یہ اتفاق دوسرے کے لئے بھی ممکن ہے اور اگر ممکن نہیں تو کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہوسکتی کہ یسوع کے لئے کیوں ممکن ہو گیا اور دوسروں کے لئے کیوں غیر ممکن ہے۔ یسوع کی انسانیت کو من حیث الانسانیت اقنوم ثانی سے کچھ تعلق نہ تھا صرف اس اتفاق کے پیش آنے سے کہ وہ بقول عیسائیان ایک مدت تک گناہ سے بیچ سکا اقنوم ثانی نے اس سے اتحاد کیا۔ سو اس اتحاد کی بنا ایک کسی امر ہے جس میں ہر ایک کسب کنندہ کا اشتراک ہے۔ اور ایک گروہ عیسائیوں کا جس میں عبداللہ آتھم بھی داخل تھا یہ بھی کہتا ہے کہ اقنوم ثانی کا تمہیں برس تک یسوع سے ہرگز تعلق نہ تھا صرف کبوتر کے نزول کے وقت سے وہ تعلق شروع ہوا۔ اس سے ضروری طور پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ یسوع تیں برس گنہگار اور مرتکب معاصی رہا کیونکہ اگر وہ اس عرصہ میں گناہ سے پاک ہوتا تو قاعدہ مذکورہ بالا کے رو سے لازم تھا کہ پہلے ہی اقنوم ثانی کا تعلق اتحادی اس سے ہو جاتا۔ اور اس جگہ ایک مخالف کہہ سکتا ہے کہ شاید یہی وجہ ہو کہ یسوع کی گذشتہ میں سال کی زندگی کی نسبت کسی پادری صاحب نے تفصیل وارسوانح کے لکھنے کیلئے قلم نہیں اٹھائی کیونکہ ان حالات کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔ بہر حال یہ تمام دعوے ہی دعوے ہیں۔ ان تمام امور میں سے کسی امر کا ثبوت نہیں دیا گیا نہ کسی نے ثابت کر کے دکھلایا کہ یسوع نے ابتدائی عمر سے آخر تک کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کسی نے یہ ثابت کیا کہ اس بے گناہی کی وجہ سے وہ خدا بن گیا۔ تعجب کہ اس خاص طرز کی خدائی کے لئے جو دنیا کی کثرت رائے کے مخالف اور مشرکانہ طریقوں سے مشابہ تھی کچھ بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اور ظاہر ہے کہ متفق علیہا عقیدہ دنیا میں یہی ہے کہ خدا موت اور ۴۷ تولد اور بھوک اور پیاس اور نادانی اور بجز یعنی عدم قدرت اور تجسّم اور تحیز سے پاک ہے مگر یسوع ان میں سے کسی بات سے بھی پاک نہ تھا۔ اگر یسوع میں خدا کی روح تھی تو وہ کیوں