کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 630

کتاب البریہ — Page 68

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۸ کتاب البريه کیا اور یسوع اور اقنوم ثانی ایک ہو گئے اور جسم ان کے لئے ایک لازمی صفت ٹھہری جو ابدالاباد تک کبھی منفک نہیں ہوگی اور اس طرح پر ایک جسمانی خدا بن گیا۔ یعنی یسوع اور دوسری طرف روح القدس بھی جسمانی طور پر ظاہر ہوا اور وہ کبوتر بن گیا۔ اب عیسائیوں کے نزدیک خدا سے مراد یہ کبوتر اور یہ انسان ہے جو یسوع کہلاتا تھا۔ اور جو کچھ ہیں یہی دونوں ہیں ۔ اور باپ کا وجود بجز ان کے کچھ بھی جسمانی طور پر نہیں۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تو حید نجات کے لئے کافی نہیں تھی جب تک اقنوم ثانی مجسم ہو کر تولد کی معمولی راہ سے پیدا نہ ہوتا۔ اور اقنوم ثانی کا مجسم ہونا کافی نہیں تھا جب تک اس پر موت نہ آتی اور موت کافی نہیں تھی جب تک اس مجسم اقوم ثانی پر جو یسوع کہلاتا تھا تمام دنیا کی لعنت نہ ڈالی جاتی ۔ پس تمام مدار عیسائیت کا ان کے خدا کی لعنتی موت پر ہے۔ غرض ان کے نزدیک خدا کاوجودان کے لئے ہر گز مفید نہیں جب تک یہ تمام مصیبتیں اور ذلتیں اس پر نہ پڑیں۔ پس ایسا خدا نہایت ہی قابل رحم ہے جس کو عیسائیوں کے لئے اس قدر مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اقنوم ثانی کا تعلق جو حضرت یسوع سے اتحاد اور عینیت کے طور سے تھا یہ پاک ہونے اور پاک رہنے کی شرط سے تھا اور اگر وہ گناہ سے پاک نہ ہوتا یا آئندہ پاک نہ رہ سکتا تو یہ تعلق بھی نہ رہتا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ تعلق کسی ہے ذاتی نہیں ہے۔ اور اس قاعدہ کے رو سے فرض کر سکتے ہیں کہ ہر ایک شخص جو پاک رہے وہ بلا تامل خدا بن سکتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ بجز یسوع کسی دوسرے شخص کا گناہ سے پاک رہنا ممتنع ہے۔ یہ دعوی بلا دلیل ہے اس لئے قابل تسلیم نہیں ۔ عیسائی خود قائل ہیں کہ ملک صدق سالم بھی جو مسیح سے بہت عرصہ پہلے گزر چکا ہے گناہ سے پاک تھا۔ پس پہلا حق خدا بننے کا اس کو حاصل تھا۔ ایسا ہی عیسائی لوگ فرشتوں کا بھی کوئی گناہ ثابت نہیں کر سکتے پس وہ بھی بوجہ اولی خدا بننے کے لئے استحقاق رکھتے ہیں۔