کتاب البریہ — Page 63
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۳ کتاب البرية کے لینے کی کیا حاجت ہے؟ کیا ہمیں پہلے سے معلوم نہیں کہ یہ نظام جو ابلغ اور محکم ہے اور یہ ترتیب جو انسب اور انفع ہے ضرور ایک مدبر صانع حکیم علیم کی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ مگر یہ بات کہ ایسے صانع کی ضرورت ہے اور یہ دوسری بات کہ ہم علم الیقین کی آنکھ سے دیکھ لیں کہ وہ صانع در حقیقت موجود بھی ہے۔ ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے ایک حکیم کو جو صرف قیاسی طور پر خدا کے وجود کا قائل ہے۔ کچی پاکیزگی اور خدا ترسی کا کمال حاصل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ صرف ضرورت کا علم الہی رُعب اپنے اندر نہیں رکھتا اور تاریکی کو اٹھا ۴۱ ) نہیں سکتا ۔ مگر جس پر براہ راست آسمان سے خدا کا جلال کھلتا ہے وہ نیک کاموں اور ثابت قدمی اور وفاداری کے لئے بڑی قوت یا تا ہے اور در حقیقت اس کا شیطان مر جاتا ہے اور جلال الہی کی شعائیں جو زندہ الہامات کے رنگ میں اور ہیبت ناک مکاشفات کی صورت میں اس کے دل پر پڑتی رہتی ہیں وہ اس کو ہر ایک تاریکی سے دور کھینچ کر لے جاتی ہیں۔ کیا تم ایسی بجلی کے نیچے جو جلانے والی اور مہلک پروں کو پھیلا رہی ہے کوئی بدکاری کا کام کر سکتے ہو؟ پس اسی طرح جو شخص خدا کی جلالی تجلیات کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے اس کی شیطنت مرجاتی ہے اور اس کے سانپ کا سر کچلا جاتا ہے۔ یہی ایک حقیقی طریق ہے جس کی برکت سے انسان فی الواقع پاک زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ افسوس کہ عیسائیوں کو یہ دکھانا چاہیے تھا کہ یہ یقین ہستی باری جو انسان کو خدا ترسی کی آنکھ بخشتا ہے اور گناہ کے خس و خاشاک کو جلاتا ہے۔ اس کا سامان انجیل نے ان کو کیا بخشا ہے؟ بیہودہ طریقوں سے گناہ کیونکر دور ہوسکتا ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھے کہ یہ کیسا ایک بے حقیقت امر اور ایک فرضی نقشہ کھینچنا ہے کہ تمام دنیا کے گناہ ایک شخص پر ڈالے گئے اور گنہگاروں کی لعنت ان سے لی گئی اور یسوع کے دل پر رکھی گئی۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد بجز یسوع کے ہر ایک کو پاک زندگی اور خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ہے مگر نعوذ باللہ یسوع ایک ایسی لعنت کے نیچے دبایا گیا جو کروڑہا