کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 630

کتاب البریہ — Page 62

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۲ كتاب البرية کا ارتکاب کرے اس قدر خدا تعالیٰ کی ہیبت نا فرمانی سے اس کو نہیں روکتی اس کی کیا وجہ ہے۔ یہی تو ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی عظمت اور جلال اور اقتدار سے بے خبر ہے تبھی تو اس کی نافرمانی کو ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور نہیں ڈرتا۔ اور ادنی ادنیٰ حکام کی نافرمانی سے اس کی روح تحلیل ہوتی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ ہماری تمام سعادت خداشناسی میں ہے اور نفسانی جذبات کو ان کے طوفان سے روکنے والی وہ معرفت کا ملہ ہے جس سے ہمیں پتہ لگ جائے کہ در حقیقت خدا ہے اور درحقیقت وہ بڑا قادر اور بڑا رحیم اور ذو الـعـذاب الشدید بھی ہے۔ یہی وہ نسخہ مجربہ ہے جس سے بچی تبدیلی ہوتی ہے اور انسان کی متمر دانہ زندگی پر موت آجاتی ہے۔ اور اس طریق کے سوا باقی وہ تمام باتیں جو دنیا کے لوگوں نے گناہ سے بچنے کے لئے بنائی ہیں جیسے کفارہ مسیح وغیرہ۔ یہ طفلانہ خیالات ہیں جو نہایت محدود اور غلطیوں سے پر ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی ایک کے سر پر چوٹ لگنے سے ہمارے سر کا درد نہیں جا سکتا اور کسی کے بھوکے رہنے سے ہم سیر نہیں ہو سکتے۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جس طرح ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا ہے یا جس طرح اہل مساحت زمین کو نا پتا ہے اسی طرح ہمارا دل نہایت محکم یقین کے ساتھ معلوم کر چکا ہے کہ کسی انسان کے نفسانی جذبات کا سیلاب بجز اس امر کے تتم ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے اور اس کی تلوار ہر ایک نافرمان پر بجلی کی طرح گرتی ہے اور اس کی رحمت ان لوگوں کو ہر ایک بلا سے بچاتی ہے جو اس کی طرف جھکتے ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ انجیل یا وید اس خدا کا ہمیں کیا پتہ بتلاتی ہیں اور اس کا چہرہ دکھانے کے لئے کونسا آئینہ ان کے ہاتھ میں ہے جو ہمارے آگے رکھتے ہیں۔ اگر وہ ہمیں صرف قصے اور کہانیاں سناتے ہیں تو صرف قصوں سے وہ کونسی تسلی ہمیں دے سکتے ہیں۔ اور اگر وہ ہمیں صرف یہ صلاح دیتے ہیں کہ ہم زمین اور آسمان کے اجرام میں غور کریں اور نظام شمسی کو تدبر سے سوچیں تو ہمیں ان سے اس مشورہ