کتاب البریہ — Page 57
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۷ جلسہ بھی بلا شبہ عدالت کا جلسہ ہے جس کی طرف بلایا گیا تھا۔ اور لطف یہ کہ عیسائیوں کی کتابوں میں قسم کھانے کے لئے مجبورا کچہریوں میں بلایا جانا کوئی شرط نہیں بلکہ جہاں کہیں کسی تصفیہ کے لئے قسم مفید ہوسکتی ہو اسی جگہ ان کے مذہب کے رو سے قسم کھانا واجب ہوجاتا ہے۔ ماسوا اس کے ڈاکٹر کلارک نے جو ہمارے مقدمہ میں قسم کھائی اس کو قسم کھانے کے لئے کسی عدالت نے جبر ابلایا تھا؟ آپ اس نے مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کیا تب قسم بھی دی گئی۔ افسوس! کہ اسی قسم پر پادریوں نے کس قد لمبا جھگڑا کیا تھا۔ اور کس قدر آتھم نے قسم کھانے سے کنارہ کشی کی تھی ۔ حالانکہ الہامی شرط سے اپنے تئیں علیحدہ ثابت کرنے کے لئے اس کو قسم کھانا نہایت ضروری تھا۔ ہم نے تو قسم پر چار ہزار روپیہ بھی دینا کیا ۴۰۰۰ تھا اور ہماری طرف سے کوئی نئی حجت نہیں تھی۔ پہلے دن سے الہام میں یہ شرہ تھی کہ اگر اس کا دل اسلامی حقانیت کی طرف رجوع کرے گا اور اس کی عظمت کو قبول کرے گا تو موت سے بچ جائے گا۔ اور اس کا میعاد کے اندرموت سے بچنا انصافا اس تنقیح کو چاہتا تھا کہ کیا اس نے شرط پر عمل تو نہیں کیا ؟ اور اس نے اپنے اقوال سے اور افعال سے جس قد رخوف ظاہر کیا تھا کم سے کم اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا تھا کہ وہ اسلامی عظمت سے ضرور ڈرا ہے اسی وجہ سے ہم نے بار بار اشتہار دیا تھا کہ اگر وہ نہیں ڈرا تو اپنے تئیں اس الہامی شرط سے باہر ثابت کرنے (۳۶) کے لئے قسم کھا جاوے۔ اور ہم نے نہ صرف قرائن موجودہ سے دیکھا بلکہ خدا نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ وہ ضرور ڈرا ہے۔ اور آتھم نے اپنے مضطر بانہ حالات سے ہمارے الہام کی تصدیق کر دی تھی ۔ پس اگر عیسائی لوگ یقینی طور پر اس کا خوف اور رجوع نہ مانتے تو کم سے کم یہ تو ان کو سوچنا چاہیے تھا کہ آتھم کا مقسم سے کنارہ کرنا اور خوف کا اقرار کرنا اور وجہ خوف اپنے خود تراشیدہ جھوٹے بہتانوں کو قرار دینا۔ کبھی کہنا کہ میرے پر سانپ چھوڑا گیا تھا۔ اور کبھی کہنا کہ تلواروں والوں نے حملہ کیا تھا۔ اور کبھی نیزوں اور بندوقوں والوں کا نام لینا اور ثبوت