کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 630

کتاب البریہ — Page 56

روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية انہوں نے ایسا بگاڑا ہے کہ گویا اس کے دانت کھانے کے اور ، اور دکھانے کے اور ہیں۔ ہم کسی پادری کو نہیں دیکھتے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دے۔ بلکہ کئی ان میں سے جھوٹے مقدمے برپا کرتے اور نہایت بے صبری اور کینہ کشی کی وجہ سے ادنی اوٹی باتوں کو عدالتوں تک پہنچاتے ہیں۔ پھر زور پر زور دیا جاتا ہے کہ حکام ان کے دشمنوں کو سزا دیں۔ اسی مقدمہ کو دیکھنا چاہیے کہ کس طرح سراسر جھوٹ باندھا گیا۔ اور کس طرح حضرات واعظان انجیل نے قتل کے مقدمہ میں مجھے ماخوذ کرانے کے لئے قسمیں کھائی ہیں۔ ڈاکٹر کلارک اور وارث دین اور عبدالرحیم اور پریم داس اور یوسف خان یہ سب حضرات عیسائیان وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس قابل شرم مقد مہ کی تائید میں انجیل اٹھائی۔ یہ وہی بزرگ ہیں جو آتھم کے مقدمہ میں بار بار کہتے تھے کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ہرگز درست نہیں پھر آتھم کیوں قسم کھاتا۔ بلکہ ڈاکٹر کلارک نے ایک اشتہار میں بہت سی تو ہین کے ساتھ یہ لکھا تھا کہ ”ہمارے مذہب میں قسم کھانا ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں خنزیر کھانا ۔ سوان لوگوں نے ثابت کر دیا کہ کہاں تک ان کے قول اور فعل میں مطابقت ہے۔ ہم عبد اللہ آتھم سے کیا چاہتے تھے یہی تو چاہتے تھے کہ وہ منصفوں کے جلسہ عدالت میں حاضر ہو کر قسم کھاوے کہ وہ ہماری شرط کے موافق اسلامی عظمت سے ڈرا نہیں۔ سو چونکہ وہ سچ پر نہیں تھا اس لئے قسم کھانے کی جرات نہ کر سکا۔ اگر یہ عذر تھا کہ ”ہم عدالت میں قسم کھاتے ہیں نہ کسی اور جگہ ۔ تو اول تو یہ عذر ان کی کتابوں میں مندرج نہیں۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ قسم صرف اس حالت میں درست ہے کہ جب تم عدالت میں جبر ابلائے جاؤ بلکہ عموما قسم کی اجازت دی اور خود حضرت مسیح نے بغیر حاضری عدالت کے قسم کھائی۔ اور ان کا پولوس ہمیشہ قسم کھایا کرتا تھا۔ اور اگر ہم اپنی طرف سے عدالت کی حاضری کی شرط بھی زیادہ کر لیں تو یہ شرط بھی ان کو مفید نہیں کیونکہ عدالت سے مراد یہ نہیں ہے کہ ضرور کسی ملازمت پیشہ حاکم کی کچہری ہو بلکہ ایسے منصف اور ثالث جو بغیر کسی رو رعایت کے حق کی شہادت دے سکتے ہوں اور جھوٹے کو ملزم کر سکتے ہوں ان کا