خطبة اِلہامِیّة — Page 64
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۶۴ خطبه الهاميه تبالون - وشهدت لى الارض والسمـاء والـمـاء پروانے دارید ۔ و برائے من زمین و آسمان تمہیں کچھ پرواہ نہیں۔ اور میرے لئے و آب زمین اور آسمان اور پانی والعفاء فلا تخافون - وتظاهـر لـى العقل والنقل وخاک گواہی دادند پس بیچ نمے ترسید و عقل و نقل و علامت با اور مٹی نے گواہی دی لیکن تم بالکل نہیں ڈرتے اور عقل اور نقل اور علامتیں والعلامات والأيات - وتظاهرت الشهادات و و اور ونشان با گواه یکدیگر شدند و دیگر گواهی با اور نشان ایک دوسرے کے گواہ ہوئے اور دوسری گواہیوں الرؤيا والمكاشفات - ثم انتم تنكرون - وان خواب ها و مکاشفات یکدیگر را قوت دادند بازشما انکار می کنید و اس خوابوں اور مکاشفات نے آپس میں ایک دوسرے کو قوت دی پھر تم انکار کرتے ہو = اور لها شانا عظيمًا لقوم يتدبرون - وطلع نشانها را شا نے عظیم است برائے آنا نکہ تذبر می کنند وستاره ذوالسنين ان لوگوں کی نظر میں جو تدبر کرتے ہیں ان نشانوں کی بڑی شان ہے اور ذوالسنین ذو السنين - ومضــى مــن هـذه الـمـائـة خمسها طلوع کرد واز صدی حصہ پنجم آں گذشت ستارہ نے طلوع کیا اور صدی میں سے پانچواں حصہ گذر گیا الا قليل من سنين - فـايـن الـمـجـدد ان كنتم مگر چند سال مگر چند برس پس مجدد کجاست! اگر پس اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ مجدد