خطبة اِلہامِیّة — Page 56
۲۲ روحانی خزائن جلد ۱۶ ۵۶ خطبه الهاميه الافناء والاحياء من الرب الفعال - فاما الجلال فانی کردن و زنده کردن از پروردگاری که بر هر کار قادر است ۔ مگر جلالی که داده شدم فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے لیکن وہ جلال الذي اعطيت فهو اثر لبروزى العيسوى من پس آن اثر آن بروزمن است که عیسوی است از جو مجھ کو دیا گیا ہے وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جو عیسوی بروز ہے اور جو خدا کی الله ذي الجلال - لابيد به شر الشرك المواج طرف سے ہے خدائے کہ ذوالجلال است تا من آن بدی شرک را نیست کنم که موج زن نابود کروں جو تا کہ میں اس شرک کی بدی کو الموجود في عقائد اهل الضلال المشتعل بكمال و موجود در عقائد گمراهان است و بکمال اشتعال گمراہوں کے عقیدوں میں موج مار رہی ہے اور موجود ہے اور اپنی پوری بھڑک میں الاشتعال - الذي هو اكبر من كل شر في مشتعل است آنکه در چشم خدائے داننده بھڑک رہی ہے احوال از هرشر اور جو حالات کے جاننے والے خدا کی نظر میں ہر ایک بدی سے قد قلت غير مرة اني ما اتيت بالسيف ولا السنان۔ وانما اتيت بالأيات بار ہا گفته ام که من به تیغ و نیزه نیامده ام و جز این نیست که آمدن من به نشانهاست میں نے کئی دفعہ بتلایا ہے کہ میں تلواروں اور نیزوں کے ساتھ نہیں آیا ہوں بلکہ میرے پاس نشان ہیں اور والقوة القدسية وحسن البيان۔ فجلالى من السماء لا بالجنود والاعوان۔ منه و قوت قدسیه و حسن بیان ۔ پس جلال من از آسمان است نه به لشکر ہاو مددگاراں۔ منه قوت قدسیہ اور حسن بیان ہے ۔ پس میرا جلال آسمانی ہے نہ کہ لشکروں کے ساتھ ۔ منہ